راولاکوٹ /کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ریاستی انتقامی کارروائیوں کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں سمیت سیکڑوں افراد کے خلاف دہشت گردی، قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں شوکت نواز میر، عمر نظیر کشمیری، سردار سجاد، ارباب ایڈووکیٹ، خواجہ مہران، امان کشمیری، عابد شاہین، مجتبیٰ، ببرک خان، عثمان کاشر، محسن عزیز اور دیگر متعدد افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ مقدمات میں دہشت گردی، قتل، اقدامِ قتل، سرکاری امور میں مداخلت اور امن و امان کی صورتحال متاثر کرنے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی اور احتجاجی تحریک سے وابستہ حلقوں نے مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوامی حقوق اور مطالبات کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں، چھاپوں، جائیدادوں کی سیلنگ اور مقدمات کے باوجود تحریک جاری رہے گی۔
دوسری جانب سرکاری حکام کا مؤقف ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، تشدد اور عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ جموں وکشمیر میں جاری احتجاجی تحریک اور حکومتی اقدامات کے باعث سیاسی و سماجی صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جبکہ تمام اضلاع میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Share this content:


