کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام بیسویں روز بھی جاری،خوراک و انٹرنیٹ بندش سے عوام پریشان

راولاکوٹ / کاشگل نیوز

پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال آج بیسویں روز بھی جاری رہی،جبکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کو چوبیس روز مکمل ہو گئے ہیں۔ طویل بندش کے باعث عوامی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم کشمیری شہریوں نے انٹرنیٹ کی مسلسل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ اوورسیز کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے حالات سے آگاہ ہو سکیں۔

دوسری جانب آن لائن کاروبار اور فری لانسنگ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث ان کے روزگار بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور متعدد خاندانوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ادھر مظفرآباد میں فورسز اور انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا تھا کہ آج سے تمام کاروباری مراکز کھول دیے جائیں گے، تاہم شہر بھر میں ایک بھی دکان نہ کھل سکی۔ تاجروں نے رضاکارانہ طور پر شٹر ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ہڑتال جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Share this content: