پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین ہفتوں (21 دنوں) سے جاری شٹ ڈاؤن، انٹرنیٹ کی معطلی اور پہیہ جام ہڑتال کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے، جہاں فورسز کی جانب سے خوراک کی گاڑیاں روکے جانے کے بعد اشیاءِ خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اس سنگین صورتحال میں کشمیری عوام سے یکجہتی اور دھرنے کے شرکاء کے تحفظات سننے کے لیے روانہ ہونے والے پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کے اپوزیشن وفد کو پولیس اور انتظامیہ نے کہوٹہ جانے سے قبل ہی سہالہ اور کہوٹہ کے مقامات پر روک دیا ہے۔
تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں راولاکوٹ (کشمیر) روانہ ہو رہا تھا۔ اس وفد کا مقصد دھرنے کے شرکاء سے ملاقات کرنا، ان کے تحفظات سننا اور کشمیری عوام کے ساتھ پاکستانی عوام کی یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
پولیس نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، جاوید راٹھور، نبیلہ ارشاد، ڈاکٹر ظفر ملک، تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو کہوٹہ جانے سے قبل ہی سہالہ اور کہوٹہ کے مقامات پر روک کر آگے جانے سے منع کر دیا۔
تاہم، توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکام مذاکرات کے بعد انہیں کشمیر جانے کی اجازت دے دیں گے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے جہاں گزشتہ 21 دنوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند ہیں۔ پہیہ جام اور شٹ ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ فورسز کی جانب سے علاقے میں آنے والی خوراک اور سپلائی کی گاڑیوں کو روک دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو خوراک کی شدید قلت اور انسانی بحران کا سامنا ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں اور وفد میں شامل رہنما اس اہم اور حساس مسئلے کو پرامن بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، اپوزیشن ذرائع اور سیاسی مبصرین کا الزام ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کے بجائے طاقت کے استعمال اور رکاوٹیں کھڑی کر کے صورتحال کو مزید بگاڑنے کی طرف لے جا رہی ہے، جس سے کشمیری عوام میں احساسِ محرومی اور غصہ مزید بڑھ رہا ہے۔
Share this content:


