ن لیگ کے صدر شاہ غلام قادر کو کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران شدید عوامی مزاحمت کا سامنا

نیلم ویلی/ کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں  سابق اسپیکر کشمیراسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کو نیلم ویلی کے لوئر حلقہ ایل اے-26 میں انتخابی مہم کے دوران شدید عوامی ردعمل اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر انتخابی مہم کے سلسلے میں کٹن پٹیاں کے مقام پر ایک شمولیتی پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ جاگراں اور بعد ازاں کٹن کے علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے ان کا راستہ روک لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران شدید نعرے بازی، احتجاج اور مبینہ طور پر پتھراؤ بھی کیا گیا، جس کے باعث انہیں اپنا سفر جاری رکھنے کے بجائے واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔

ذرائع کے مطابق واپسی کے دوران باٹا کے مقام پر بھی مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شاہ غلام قادر کے قافلے کو روک لیا اور شدید احتجاج کیا۔ اس دوران ان کی گاڑی کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین کی جانب سے سخت نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کے باعث شاہ غلام قادر کو اپنی گاڑی چھوڑ کر قریبی عمارت میں پناہ لینا پڑی۔

کہا جارہا ہے کہ شاہ غلام قادر بعد ازاں قریبی ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) کی عمارت میں چلے گئے، جہاں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں لینے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ انتظامیہ نے کچھ دیر بعد حالات کو معمول پر لانے کا دعویٰ کیا۔

دوسری جانب شاہ غلام قادر کے ترجمان نے واقعے کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مبینہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر علاقے میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ انتخابی عمل کو متاثر کیا جا سکے اور انتخابات ملتوی کرنے کے لیے جواز پیدا کیا جائے۔

تاحال واقعے کے حوالے سے پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیاسی حلقوں نے واقعے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں گذشتہ 22 دنوں سے مکمل لاک ڈائون ہے ۔شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے ،انٹر نیٹ سروس بند ہے جبکہ پاکستانی فورسز نے پورے ریاست کا محاصرہ کیا ہوا ہے اشیائے خوردو نوش کی ناکہ بندی کی ہے جس سے ریاست بھر میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔

دوسری جانب مختلف علاقوں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے، ریلیاں اورمظاہرے جاری ہیں جس میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک ہے اور ریاست پاکستان بشمول پاکستانی فوج کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔

ن لیگی رہنما شاہ غلام قادرکواسی عوامی غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ایک طرف پورا ریاست کشمیر پاکستانی ریاست کی عوام کش پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں تو دوسری جانب ریاست پاکستان اور عسکری حکام نے کشمیر کی اس کشیدہ صورتحال کے دوران الیکشن کروارہی ہے تاکہ دنیا میں  یہ تاثر جاسکے کہ حالات نارمل ہیں جبکہ عسکری اسٹیبلشمنٹ اس کشیدہ صورتحال کافائدہ اٹھا کراپنے من پسند لوگوں کو منتخب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

Share this content: