پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 نکاتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے سول نافرمانی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ روز 13 اگست 2026کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے راولاکوٹ کے مقام سے ایک اہم اور تفصیلی اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی، انسانی حقوق اور معاشی صورتِ حال کے حوالے سے اپنے مطالبات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ فورسز نے اپنے حقوق کے لیے کیے جانے والے پُرامن احتجاج پر قتلِ عام کیا اور مزید نسل کشی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ پاکستانی پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کی جانب سے تاجروں کی دکانوں اور عوام الناس کے گھروں میں لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔لہٰذا JKJAAC نے فیصلہ کیا ہے کہ ماہِ اگست سے تمام تر بلات، بجلی، پانی، گیس اور اہم ٹیکسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جاتا ہے۔
تمام تاجر برادری سے اپیل ہے کہ وہ رواں سال انکم ٹیکس کی ریٹرن جمع نہ کروائیں۔
اعلامیے کے اہم ترین نکات اور فیصلوں کا خلاصہ ذیل میں درج ہے:
- عالمی انسانی حقوق کمیشن اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
کمیٹی نے 2 اگست 2026 کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ 4 اکتوبر 2025 کے تحریری معاہدے سے انحراف کے بعد حکومت نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر سیاسی رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات، گرفتاریوں اور پرتشدد اقدامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ کمیٹی نے اقوامِ متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے خلاف بندوق اور جنگی ہتھیاروں کے استعمال، پرامن تحریک کو دبانے اور عوامی و مالی نقصان کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے ایک باقاعدہ غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
- ڈھونگ الیکشن کی منسوخی اور تمام فریقین پر مشتمل عبوری حکومت کا قیام
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غیر جمہوری معاشروں میں عوامی اکثریت کی رائے کو مسترد کر کے من مانے اور جعلی انتخابات کروائے جاتے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ ڈھونگ الیکشنز کو فوری طور پر منسوخ کر کے تمام فریقین، وسیع تر عوامی شمولیت اور حقِ رائے دہی کے جمہوری اصولوں کی بنیاد پر ایک غیر جانبدار اور غیر مستحکم صورتِ حال ختم کرنے والی عبوری حکومت قائم کی جائے، جو آزاد الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات منعقد کروائے۔
- پرامداد پرتشدد کارروائیوں، غذائی قلّت اور ادویات کی بندش پر تشویش
کمیٹی نے فورسز کی جانب سے اسپتالوں، مواصلاتی نظام اور تعلیمی اداروں پر قبضوں اور ادویات و خوراک کی فراہمی معطل کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کے اس بیان کی بھی شدید مذمت کی گئی جس میں ایکشن کمیٹی کو ‘Non-State Actors’ اور دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ کمیٹی نے اقوامِ عالم سے اپیل کی ہے کہ بھوک اور ادویات کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
- ہڑتال کے حوالے سے نیا لائحہ عمل: ہفتے میں دو دن بازار کھولنے کی اجازت
طویل لاک ڈاؤن کے باعث عوام اور تاجر برادری کی شدید مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہفتے میں دو دن (جمعہ اور منگل کو دن 2:00 بجے تا مغرب) تمام اشیائے خوردونوش کی دکانیں اور چھوٹے بڑے بازار کھلے رہیں گے۔
میڈیکل اسٹورز کو تمام تر پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
تاجر برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گرانفروشی اور منافع خوری سے گریز کریں اور مناسب ریٹس پر اشیاء فراہم کریں۔
- تمام ٹیکسز، بجلی، پانی اور گیس کے بلوں کا مکمل بائیکاٹ
حکومت اور فورسز کے جانب سے معصوم عوام پر مبینہ تشدد، لوٹ مار اور گھروں میں توڑ پھوڑ کے خلاف ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ماہِ اگست سے تمام تر بجلی، پانی، گیس اور دیگر ٹیکسز کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سال کے انکم ٹیکس ریٹرن بھی جمع نہ کروائیں۔
- زرد صحافت کی مذمت اور بین الاقوامی میڈیا کا شکریہ
اعلامیے میں پاکستانی میڈیا کے ایک مخصوص حصے پر الزامات اور یکطرفہ پروپیگنڈا کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ دوسری طرف، ایکشن کمیٹی نے الجزیرہ سمیت دیگر عالمی میڈیا اور غیر جانبدار صحافیوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے تحریک کی حقائق پر مبنی کوریج کی۔
- اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور حقِ خود ارادیت
کمیٹی نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کے تحت ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کشمیریوں کی آزادانہ مرضی (Free Will) اور ‘حقِ خود ارادیت’ کے ذریعے ہونا باقی ہے۔ انٹرنیٹ کی معطلی، غذائی قحط اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (UNO) سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
- 19 اگست کو بھمبر سے راولاکوٹ "عظیم یکجہتی کارواں” کا اعلان
خوراک اور ادویات کی مصنوعی قلت اور حکومتی رویے کے خلاف 19 اگست 2026 کو بھمبر سے ایک عظیم الشان "یکجہتی کارواں” کا آغاز ہوگا جو راولاکوٹ کے مرکزی دھرنے میں پہنچ کر یکجہتی کا اظہار کرے گا۔ میرپور ڈویژن کے عوام اور اوورسیز بھائیوں سے اس پرامن کارواں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
- قیامِ پاکستان کے موقع پر عوام کو مبارکباد اور حاکموں سے سوال
اعلامیے کے اختتام پر، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے قیامِ پاکستان کے موقع پر پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی مظلوم عوام سے اپیل کی کہ وہ جشنِ آزادی کے موقع پر حکمرانوں سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ "ہمارے ٹیکس کے پیسے ہمارے علاج اور تعلیم پر خرچ کرنے کے بجائے حکمران طبقے کی عیاشیوں اور کشمیری عوام کو قتل کرنے کے لیے گولیوں پر کیوں خرچ ہو رہے ہیں؟”
Share this content:


