بلوچستان سیکیورٹی الرٹ: تربت، ہرنائی اور کوئٹہ میں حملے؛ 14 اگست کے موقع پر انٹرنیٹ و ٹرین سروسز معطل

بلوچستان میں سیکیورٹی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایک جانب جہاں ضلع کیچ، ہرنائی اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے حملوں اور دھماکوں کی خبریں سامنے آئی ہیں، وہیں دوسری جانب آزادی پسند مسلح تنظیموں کے متوقع حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر حکومت نے کوئٹہ میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے موبائل ڈیٹا اور ٹرین سروسز معطل کر دی ہیں۔

مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹس کا تفصیلی خلاصہ ذیل میں درج ہے:

  1. تربت اور ہرنائی: فورسز کی گاڑیوں اور پولیس چیک پوسٹ پر دھماکے

تربت (ضلع کیچ): شہر کے مرکزی علاقے شہید فدا چوک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو آئی ای ڈی (IED) بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں جانی نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد فورسز نے علاقے کو گھیراؤ میں لے لیا، تاہم جانی نقصان سے متعلق باضابطہ بیان کا انتظار ہے۔

ہرنائی: گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے 5-مائل پولیس چیک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، جس سے عمارت کو شدید مالی نقصان پہنچا۔ واقعے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

  1. کوئٹہ (میاں غنڈی): سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ، 1 ہلاک اور 7 زخمی

کوئٹہ کے علاقے میان غنڈی کے قریب بیوٹمز (BUITEMS) چلتن کیمپس کے ریسرچ فیلڈز میں مقیم سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں پر مسلح افراد نے شدید فائرنگ کر دی۔

جانی نقصان: فائرنگ کے نتیجے میں منصور پوپلزئی نامی شخص ہلاک ہو گیا جبکہ سات افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پس منظر: متاثرہ افراد طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان سے پاکستان آئے تھے اور سرانان میں ڈرون حملوں کے بعد انہیں بیوٹمز منتقل کیا گیا تھا۔ حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

میڈیا رپورٹس: اس سے قبل میڈیا میں یہ اطلاعات شائع ہو چکی ہیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیاں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) بلوچستان میں متحرک بلوچ مسلح تنظیموں کے خلاف سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو استعمال کر رہی ہیں۔

  1. کوئٹہ میں انٹرنیٹ و ٹرین سروس کی معطلی اور ریڈ زون سیل

14 اور 15 اگست کے موقع پر مسلح تنظیموں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے کوئٹہ شہر میں انتہائی سخت سیکیورٹی تدابیر نافذ کی گئی ہیں:

موبائل ڈیٹا سروس کی معطلی: سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ و ڈیٹا سروس معطل کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کو آن لائن رابطوں میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام سیکیورٹی صورتِ حال کے بارے میں واضح معلومات دیں اور سروس بحال کریں۔

جعفر ایکسپریس اور دیگر ٹرینیں معطل: محکمہ ریلویز نے 14 اور 15 اگست کے لیے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی آمدورفت معطل کر دی ہے، جبکہ پشاور سے آنے والی گاڑی کو جیکب آباد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی کے لیے ‘بولان میل’ اور چمن کے لیے ‘چمن ٹرین’ پہلے ہی پچھلے چھ ماہ سے معطل ہیں۔

سیکیورٹی الرٹ: کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

حکام کی جانب سے تمام واقعات کی تحقیقات اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

Share this content: