پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا جمعرات سے ایک روزہ علامتی ہڑتال کا اعلان

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے ملک بھر میں 24 گھنٹے کی علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جمعرات کی صبح چھ بجے سے جمعہ کی صبح چھ بجے تک ملک بھر کے پٹرول پمپ بند رکھے جائیں گے۔

ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے 30 روزہ طریقۂ کار برقرار رکھا جائے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک روزہ ہڑتال کے باوجود حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

بدھ کو پی پی ڈی اے کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے دیگر عہدے داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہر 24 گھنٹے بعد ازسرِنو تعین کرنے کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سے سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔

ملک خدا بخش نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ماہانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے نہ کہ ہر 24 گھنٹے بعد۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس سے ڈیلرز کے منافع کے مارجن میں اضافہ نہیں کیا گیا، لہٰذا ڈیلرز کے لیے مستقل طور پر 8 فیصد کمیشن مقرر کیا جائے۔

انھوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی الاٹمنٹ پالیسی ختم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بینکوں اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کے تحت عائد ہونے والے اخراجات صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ او ایم سیز کی موجودہ ایندھن الاٹمنٹ پالیسی غیر منصفانہ ہے، جسے ختم کر کے ایندھن کی فراہمی کا نظام بہتر بنایا جائے۔

اس موقع پر تنظیم کے سندھ کے صدر حاجی امیر خان نے کہا کہ ڈیلرز گزشتہ دو برس سے اپنے مارجن میں اضافے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آٹھ فیصد ڈیلر مارجن سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے۔

نائب چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے پانچ مطالبات رکھے ہیں اور پی پی ڈی اے ان میں سے کسی بھی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ جلد اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیر پیٹرولیم نے سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا اعلان کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ یہ فیصلہ ’تکلیف دہ‘ ضرور ہو گا لیکن ریاست کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ لازم تھا۔ قیمت روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا ’تکلیف دہ‘ فیصلہ کیوں کیا گیا؟

Share this content: