انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے علاوہ جموں خطے کے کٹھوعہ اور ڈوڈہ، جبکہ وادی کشمیر کے بڈگام، کولگام اور دیگر علاقوں میں مسلسل بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث متعدد بستیوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں متعدد مکانات اور دیگر تعمیرات بہہ گئی ہیں جبکہ اب تک خواتین اور بچوں سمیت 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز حکومت نے تازہ الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات میں بھی ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث کشمیر کو انڈیا کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم شاہراہ پر ٹریفک معطل ہے، جبکہ ہندوؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا، جو جون کے آخر سے اگست کے آخر تک جاری رہتی ہے، عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
اس دوران سینکڑوں مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی طوفانی اور مسلسل بارشوں کے باعث پیر پنجال کے پہاڑی علاقوں میں دریاؤں اور مقامی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خطے میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز کے خدشے کا الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اتوار کی صبح صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
مقامی حکام کے مطابق سنیچر کی رات راجوری شہر کے وسط سے گزرنے والے دریا درہالی میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے بلند ہو گئی۔ سیلابی ریلے نے بیلا کالونی کے قریب قائم حفاظتی بند کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں سیلابی پانی نیو بس سٹینڈ اور قریبی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔
اچانک آنے والے اس ریلے کے باعث بس سٹینڈ پر کھڑی درجنوں گاڑیاں بہہ گئیں یا پانی میں ڈوب گئیں۔ اس کے علاوہ عبداللہ برج اور طارق برج کے اطراف قائم کچی آبادیوں اور رہائشی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
سیلاب سے نہ صرف راجوری شہر بلکہ تھنہ منڈی، درہال اور منجاکوٹ جیسے دور دراز دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ متعدد مقامات پر مٹی کے مکانات منہدم ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث راجوری، پونچھ نیشنل ہائی وے سمیت کئی اہم رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس ہنگامی کنٹرول رومز کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی نے عوام اور حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
ادھر وادی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تحصیل بیروہ میں درجن بھر دکانوں اور نجی دفاتر پر مشتمل ایک شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی زد میں آ کر منہدم ہو گیا۔ تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کیونکہ عمارت میں موجود افراد کو سیلاب آنے سے قبل ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
مقامی محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے سیلاب کا الرٹ بھی جاری کیا ہے۔
Share this content:


