پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع باغ میں واقع کوپرا پولیس چوکی پر مبینہ حملے کے بعد آزاد کشمیر پولیس اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان زبردست لفظی اور بیانیاتی تصادم دیکھنے میں آیا ہے۔
پولیس کی جانب سے ایکشن کمیٹی پر حملے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد ایکشن کمیٹی کے کور ممبر سردار عمر نذیر کشمیری نے اس دعوے کو من گھڑت، بے بنیاد اور طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کرنے کا منصوبہ قرار دیا ہے۔
ڈی آئی جی پولیس ریجن پونچھ کے ترجمان کی جانب سے 5 ستمبر 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، صبح 06:35 بجے چترہ ٹوپی روڈ پر واقع کوپرا پولیس چوکی پر تین اطراف سے حملہ کیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں شامل عناصر کا تعلق ایکشن کمیٹی سے تھا، جس کے نتیجے میں سپاہی رحیم گل ہلاک ہو گئے۔
پریس ریلیز کے مطابق فورسز کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ اس کے قبضے سے 2 ہینڈ گرنیڈ، 1 کلاشنکوف، 3 میگزین اور 1 خنجر برآمد ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد پورے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر کے گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اور ریاستی اداروں پر حملے کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر سردار عمر نذیر کشمیری نے پولیس کے اس بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے بھرپور مذمت کی ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر سردار عمر نذیر کشمیری نے پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز پر ردعمل دیتے ہوئے اسے من گھڑت، بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے کر بھرپور مذمت کی ہے۔
اپنے وضاحتی بیان میں سردار عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین سال سے پُرامن اور عدم تشدد کے اصولوں کے تحت عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکومتِ آزادکشمیر اور حکومتِ پاکستان کے نمائندوں نے باقاعدہ تحریری معاہدوں کے باوجود اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا، تاہم ایکشن کمیٹی نے اپنی جدوجہد کو پُرامن رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی بھی مسلح حملے، فائرنگ یا تشدد سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔ ایسے حالات میں اس خدشے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی منصوبہ بندی کے تحت شرپسند یا پلانٹڈ عناصر کے ذریعے کوئی واقعہ کروا کر اس کا ملبہ پُرامن عوامی تحریک پر ڈالنے اور طاقت کے مزید استعمال کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
سردار عمر نذیر کشمیری نے واضح کیا کہ ہماری تحریک پُرامن، سیاسی اور عوامی حقوق کی تحریک ہے۔ جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد بیانیے تشکیل دینے کے بجائے پُرامن اور نہتے عوام کے پہلے سے تسلیم شدہ مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پُرامن عوامی تحریک کو بدنام کرنے، اسے تشدد سے جوڑنے یا کسی غیرمصدقہ و خودساختہ واقعے کو طاقت کے استعمال کا جواز بنانے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہوگی۔
Share this content:


