انڈیا : کشمیر میں پولیس پر حملہ ، ایک اہلکار ہلاک، حملہ آور فرار

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے مصروف علاقے لال چوک میں بدھ کے روز نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک ہو گئے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز دوپہر کے وقت پیش آیا جب علاقے میں تعینات پولیس پارٹی پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔

سرکاری ذرائع نے ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت 35 سالہ عاشق حسین قریشی کے نام سے کی ہے، جو وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے رہائشی تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل عاشق حسین سالانہ امرناتھ یاترا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔

حملے کے فوراً بعد انھیں شدید زخمی حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کا ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ موٹر سائیکل پر سوار ایک حملہ آور نے انتہائی قریب سے گولی چلائی اور فرار ہو گیا۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کا کہناتھا کہ ’یہ ایک ‘شوٹ اینڈ ایسکیپ (گولی مارو اور بھاگو) طرز کا بزدلانہ حملہ تھا۔

سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، مقامی ذرائع کے مطابق ایک مسلح گروہ نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جموں و کشمیر پولیس کے جوان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس جرم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

وادی میں جاری سالانہ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

Share this content: