بلوچستان میں بڑے مسلح حملے ،سیشن جج سمیت فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی، چوکی تباہ

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز، عدلیہ کی شخصیات اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کی سنگین اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان پرتشدد واقعات میں متعدد فوجی اہلکار، ایک سیشن جج اور ان کے گن مین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی افراد شدید زخمی اور ایک پولیس چوکی کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔

ضلع نوشکی سے آج صبح فوج کو نشانہ بنانے والے ایک بڑے حملے کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس واقعے میں متعدد اہلکار ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔

حملے میں ہلاک ہونے والے 3 اہلکاروں کی اب تک شناخت لانس نائیک نعمان، سپاہی عاقب نواز، اور سپاہی سبدر کے طور پر ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی دیگر اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات اور حکام کی جانب سے سرکاری بیان کا انتظار ہے۔

دوسری جانب، ضلع مستونگ میں کراچی کوئٹہ شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، جن کا تعلق توبہ کاکڑی سے تھا، کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) کے مطابق، اس حملے میں ایک جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایک اور شخص شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم واقعہ کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

سیکیورٹی تنصیبات پر حملوں کے تسلسل میں، ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی کے علاقے صغرہ میں نامعلوم افراد نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں چوکی کو شدید نقصان پہنچا اور عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت پولیس چوکی میں کوئی اہلکار موجود نہیں تھا، جس کے باعث کسی پولیس اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اب تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

Share this content: