نئی دہلی میں رہائشی عمارت منہدم، درجنوں طلبہ کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک رہائشی عمارت منہدم ہو گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درجنوں طلبہ اس کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر 1:30 بجے جب جنوب مغربی دہلی کے علاقے ستیہ نکیتن میں واقع پانچ منزلہ عمارت گری، اس وقت اس میں ممکنہ طور پر 50 افراد موجود تھے۔

این ڈی ٹی وی نے مقامی پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے جبکہ دیگر دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ اب تک چھ افراد کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔

یہ عمارت، جس کا نام ’ہاسٹل ڈیز‘ تھا، دہلی یونیورسٹی کے کیمپس سے کچھ فاصلے پر واقع تھی۔ اطلاعات کے مطابق عمارت کے تہہ خانے میں تعمیراتی کام جاری تھا۔

ہاسٹل میں مقیم بہت سے طلبہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کے منہدم ہونے کے وقت وہ اپنے کمروں میں موجود تھے، کیونکہ اتوار کے روز کلاسیں نہیں تھیں۔

موقع پر موجود ایک رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ ملبے تلے دبے بعض طلبہ وہاں سے فون کالز کر رہے تھے۔

عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ ہاسٹل سے متصل ایک اور عمارت بھی منہدم ہو گئی تھی۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا کا کہنا ہے کہ ’احتیاطی اقدام‘ کے طور پر ملحقہ عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ملبے تلے پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق عمارت صرف 40 یا 50 سال پرانی تھی۔

ایک قریبی دکان کے مالک نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ عمارت 100 سالہ لیز پر تھی اور لیز ہولڈر نے اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے تہہ خانے میں کھدائی کا کام کروایا تھا۔

انہوں نے کہا ’اوپری عمارت کو مضبوط کیا گیا تھا، لیکن نیچے کے ستون کمزور تھے۔‘ ان کے مطابق تعمیراتی کام کرنے والے مزدور بھی ملبے تلے دب گئے تھے۔

نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت گرنے کی وجوہات کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’طلبہ اور عام لوگوں کی سلامتی کے ساتھ غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پولیس عمارت کے مالک کی تلاش کر رہی ہے۔

Share this content: