بلوچستان میں فوجی گولہ باری سے شہری ہلاک، ورثا کا لاش کے ہمراہ احتجاجی دھرنا، سخت کرفیو نافذ

بلوچستان کے اضلاع خضدار اور مستونگ میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ خضدار میں مقامی آبادی پر مبینہ گولہ باری کے نتیجے میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد عوام نے لاش کے ہمراہ شاہراہ بلاک کر کے دھرنا دے دیا ہے، جبکہ مستونگ میں زور دار دھماکے کے بعد کھڈکوچہ کے علاقے میں دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم کے ساتھ غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر کے قومی شاہراہ کو بند کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے خضدار کے علاقے وڈھ دراکھالہ گاسلیٹی ایریا میں فورسز کی جانب سے مقامی آبادی پر گولہ باری اور شیلنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے خلاف اہلِ علاقہ نے لاش کے ہمراہ شاہراہ پر دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی بربریت کی داستان بدستور جاری ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ صبح 8 بجے وڈھ گاسلیٹی دراکھالہ ایریا میں پاکستانی فوج نے آبادی پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں عبدالقادر نامی شخص ہلاک ہوا، جبکہ خواتین، بزرگ اور بچے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاش کے ہمراہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک واقعے کی صاف شفاف تحقیقات کرکے اہلکاروں کو سزا نہیں دی جاتی۔ مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کا رویہ ہمارے ساتھ دشمن جیسا ہے اور یہ ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ آخری اطلاع تک مظاہرین، جن میں بچے، بزرگ اور خواتین شامل ہیں، لاش کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب، بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کردیا گیا۔ جہاں لوگوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکومتِ بلوچستان محکمہ داخلہ نے بدھ کی رات آٹھ بجے سے تاحکم ثانی مستونگ کے سب تحصیل کھڈکوچہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ لہذا کرفیو کے دوران کوئی بھی شخص اپنے گھروں سے باہر نہ نکلے یہ حکم نامہ آج رات 8 بجے سے تاحکم ثانی نافذ العمل ہوگا اور کرفیو کے خلاف ورزی کرنے والے کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائیگی۔ اسی دوران، مستونگ میں ایک زور دار دھماکہ سنا گیا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پورے شہر میں سنی گئی۔ سیکیورٹی کی اسی سنگین صورتحال کے پیش نظر مستونگ میں کیڈٹ کالج چوک کے مقام پر کوئٹہ–کراچی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

Share this content: