پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ اور گردونواح میں جاری احتجاجی دھرنے اور لاک ڈاؤن کو آج 46 روز مکمل ہو گئے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے دعویٰ کیا ہے کہ بیک ڈور مذاکرات میں موجود ڈیڈ لاک ختم ہو چکا ہے اور تمام اہم نکات پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ تحریری معاہدے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحریری معاہدہ نہ ہوا تو ایک بار پھر لانگ مارچ کیا جائے گا، تاہم اس مرتبہ لانگ مارچ کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
جمعرات کو شہداء کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے راولاکوٹ سمیت مختلف مقامات پر دعائیہ تقریبات اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے گئے۔ مرکزی اجتماع دریک عیدگاہ میں ہوا جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جبکہ بس ٹرمینل، سنگولہ روڈ، مجاہد آباد، پانیولہ اور پوٹھی مکوالاں سمیت دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی دھرنے جاری رہے۔
دوسری جانب میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے، جبکہ راولاکوٹ شہر بدستور محاصرے کی کیفیت میں ہے۔ شہر کے اندر فورسز تعینات ہیں اور داخلی راستوں پر مظاہرین کا کنٹرول برقرار ہے۔ شہر میں اشیائے ضروریہ کی قلت بھی شدت اختیار کر گئی ہے اور متعدد خاندان عارضی طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ اور انتخابی اصلاحات کے مطالبات کے حق میں لانگ مارچ کی کال دی تھی، جس کے بعد شروع ہونے والا احتجاج اب بھی جاری ہے۔ مختلف جھڑپوں، سکیورٹی آپریشنز اور دیگر واقعات میں اب تک کم از کم 44 شہری اور 35 سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
حکومت نے تاحال اعلانیہ مذاکرات کی تصدیق نہیں کی اور احتجاج کے غیر مشروط خاتمے پر زور دے رہی ہے، جبکہ عام انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ آئندہ دو دن مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
Share this content:

