پاکستان میں بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں عائد کردی گئی

پاکستانی حکام نے ملک میں کام کرنے والے بین الاقوامی میڈیا اور ان کے لیے خدمات سرانجام دینے والے مقامی صحافیوں کی آزادانہ رپورٹنگ پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس اقدام پر ملکی و غیر ملکی صحافتی تنظیموں، ایڈیٹرز اور قانونی ماہرین کی جانب سے شدید تشویش اور تنقید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے ’فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز، 2026‘ کے نام سے جاری کردہ ان قواعد و ضوابط کے تحت، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے لیے کام کرنے والے تمام صحافی بشمول پاکستانی شہری اور فری لانس صحافی اب صرف اسلام آباد، کراچی اور لاہور تک محدود رہیں گے۔ ان تین بڑے شہروں کے علاوہ ملک کے کسی بھی دیگر علاقے، شہر یا صوبے سے رپورٹنگ کرنے کے لیے صحافیوں کو پیشگی اجازت نامہ یعنی ’نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ‘ (NOC) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

ان قواعد میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ این او سی کے اجرا میں کتنا وقت لگے گا، جبکہ عملًا غیر ملکی صحافیوں کو ایسے اجازت ناموں کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان پابندیوں کے باعث 24 کروڑ آبادی والے ملک کے دور دراز علاقوں میں کسی بھی اہم اور ہنگامی واقعے کی موقع پر جا کر آزادانہ کوریج شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

صحافتی حلقوں نے ان اقدامات کو آزادیٔ صحافت پر گہرا حملہ قرار دیا ہے ۔

انگریزی روزنامے ‘ڈان’ کے ایڈیٹر ظفر عباس نے ان پابندیوں کو "مضحکہ خیز اور نا قابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 40 سالہ صحافتی کیریئر اور دو فوجی آمروں کے ادوار میں بھی ایسی سختیاں نہیں دیکھیں۔ ان کے بقول تین شہروں تک محدود کرنا صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور صحافت کی روح کے خلاف ہے۔

سیاستدان اور تجزیہ کار مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ ہدایات محدود ہوتی ہوئی فضا میں عالمی میڈیا کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں، جس سے صرف جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو جگہ ملے گی۔

سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد کے مطابق ان ہدایات کو کوئی قانونی یا آئینی پشت پناہی حاصل نہیں ہے۔ یہ صرف ایک انتظامی حکم نامہ ہے جس کا مقصد صحافت پر بے جا قدغن لگانا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی حکومت نے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میڈیا پر سنسرشپ یا نقل و حرکت پر مکمل پابندی نہیں ہے، بلکہ تصدیق اور رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایک "انتظامی طریقہ کار” ہے۔

حکومت کے مطابق وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ‘رولز آف بزنس’ کے تحت یہ اقدامات انتظامی تعلقات کو منظم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں اور قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط کو متاثر کرنے والی صورتحال میں صحافیوں کی منظوری (Accreditation) منسوخ کی جا سکتی ہے۔

ان نئی پابندیوں کا بظاہر فوری سبب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حالیہ سیاسی و عوامی کشیدگی اور انتخابات کے بائیکاٹ کی خبریں بنا ہے۔ الجزیرہ، بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس پر حکومتی ناگواری کے بعد وزارتِ اطلاعات نے واٹس ایپ کے ذریعے تمام بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو کشمیر سے فوری واپس لوٹنے اور این او سی کے لیے درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس (آزادیٔ صحافت کے عالمی اشاریے) میں پاکستان اس وقت 180 ممالک کی فہرست میں 153ویں نمبر پر موجود ہے، اور ان نئی پالیسیوں کے بعد پاکستان کی درجہ بندی مزید متاثر ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

Share this content: