گلگت / کاشگل نیوز
گلگت بلتستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خالد حسین نے سینئر ممبران ذاکر اور وقار راجپوت کے ہمراہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین سے ملاقات کی اور انہیں صحافیوں کو درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر صدر گلگت بلتستان یونین آف جرنلسٹس خالد حسین نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے جرنلسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ میں اضافے، میڈیا کالونی کے قیام اور صحافیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق دیگر منصوبوں پر فوری پیش رفت کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین نے کہا کہ سابق حکومت کی جانب سے صحافیوں کے لیے پہلے ہی 10 کروڑ روپے کا جرنلسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ مختص کیا گیا تھا، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود یہ رقم صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال نہیں ہوسکی۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی بلاک ایلوکیشن سے مزید 10 کروڑ روپے جرنلسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ کے لیے فراہم کریں گے، جس کے بعد صحافیوں کے لیے مجموعی انڈومنٹ فنڈ 20 کروڑ روپے ہوجائے گا۔ انہوں نے موجودہ فنڈ کو ایک ماہ کے اندر قانونی تقاضے مکمل کرکے فعال کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق صحافیوں کو کم از کم 44 ہزار روپے ماہانہ اجرت ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو اخبارات اپنے صحافیوں کو تنخواہیں ادا نہیں کرتے، ان کے سرکاری اشتہارات پالیسی کے مطابق روکے جا سکتے ہیں۔
صدر خالد حسین نے وزیراعلیٰ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونین جلد سیکریٹری اطلاعات سے ملاقات کرکے جرنلسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ کو صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے فعال بنانے کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کالونی، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، صحافیوں اور ان کے بچوں کی صحت و تعلیم سمیت دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے بھی حکومت سے رابطے جاری رکھے جائیں گے۔
خالد حسین نے مزید کہا کہ سابق حکومت کی جانب سے مختص کیے گئے 10 کروڑ روپے کے انڈومنٹ فنڈ کو دو سال تک صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال نہ کیے جانے کے معاملے پر بھی آواز اٹھائی جائے گی۔
Share this content:


