بلوچستان میں ضلع قلات کے علاقے شورپارود کے مکینوں کو انتظامیہ کی جانب سے 28 ستمبر تک علاقہ خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ نوٹس اسسٹنٹ کمشنر قلات کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے ایک حالیہ اجلاس میں کہا تھا کہ شورپارود میں آپریشن کیا جائے گا، جس سے قبل علاقے کی آبادی کو عارضی طور پر دوسرے مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔
شورپارود انتظامی طور پر ضلع قلات کا حصہ ہے اور قلات شہر کے مغرب میں واقع ہے۔
اس علاقے کی سرحدیں ضلع خاران سے بھی ملتی ہیں جبکہ یہاں مختلف بلوچ قبائل آباد ہیں۔
یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق شورپارود کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ایک سویلین اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر قلات نے 20 ستمبر کو شورپارود اور اس سے ملحقہ علاقوں کے مکینوں کے لیے انخلا کا نوٹس جاری کیا۔
اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے کلی پارود شمالی، پارود جنوبی، خلیلی، خلخطی اور شوکی کے مکینوں کے عارضی انخلا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
علاقہ مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کے پیش نظر 28 ستمبر 2026 تک محفوظ مقامات پر منتقلی کے انتظامات مکمل کریں۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہیں اور اس عمل کو پُر امن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ان کے تعاون کے منتظر ہیں۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق شورپارود کے مکینوں کو جولائی میں بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اس معاملے کو میڈیا میں زیادہ توجہ نہیں ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ قلات کے علاوہ مستونگ اور کچھی کے بعض علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے باعث آبادی کے انخلا کا پروگرام زیر غور ہے۔
تاہم پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے مرحلے میں شورپارود کے مکینوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں بعد ازاں مرحلہ وار نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے آبادیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق لوگوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کی، تاہم بلوچستان میں آج تک ایک گاؤں بھی خالی نہیں کرایا گیا۔
انھوں نے واضح کیا کہ موجودہ منصوبے میں مستونگ شامل نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی آبادی کو نقل مکانی کا سامنا ہو گا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شورپارود ایک پہاڑی سلسلہ ہے جہاں 1970 کی دہائی سے مختلف ادوار میں مسلح افراد کے ٹھکانے اور فراری کیمپ موجود رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان میں امن کے ادوار کے دوران مسئلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا، بلکہ ان ادوار میں بھی بعض عناصر جنگ کی تیاری کرتے رہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ شورپارود میں تقریباً ایک ہزار افراد آباد ہیں اور حکومتی سروے کے مطابق ان میں اکثریت خانہ بدوش آبادی پر مشتمل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور انھیں عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا: ’حکومت ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی، ان کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں گے اور ان کی عزت و احترام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔‘
وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ مستقل نقل مکانی نہیں بلکہ ایک عارضی انتظام ہو گا تاکہ علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ان پناہ گاہوں میں شدت پسند منصوبہ بندی کرتے، اپنے دیگر انتظامات مکمل کرتے اور انسانی ڈھال استعمال کرتے ہوئے ریاستی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ’وہ شہدا کے بچوں، بیواؤں اور ان بوڑھے والدین کو کیا جواب دیں جن کے بچے روزانہ اس جنگ میں جانیں قربان کر رہے ہیں؟ کہیں نہ کہیں ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔‘
Share this content:


