غربت زدہ ملکوں کے محبِ وطن عوام اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹتی طاقت
تحریر: خواجہ کبیر احمد
دنیا کی تاریخ میں ایسے بے شمار ممالک ہیں جہاں غربت نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی، جہاں بنیادی سہولیات محدود ہیں، جہاں جنگوں اور سیاسی بحرانوں نے نسلوں کو متاثر کیا، لیکن وہاں کے شہریوں کی اپنے وطن سے محبت پر کسی کو شک نہیں ہوتا۔ جنوبی سوڈان، برونڈی، وسطی افریقی جمہوریہ، نائجر، چاڈ، افغانستان اور صومالیہ جیسے ممالک دنیا کے غریب ترین اور کم ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ممالک کے کروڑوں شہری شاید وہ سہولیات حاصل نہیں کر پاتے جو ترقی یافتہ دنیا کے شہریوں کو میسر ہیں، مگر کیا اس بنیاد پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے وطن سے محبت نہیں کرتے؟ ہرگز نہیں۔
غربت حب الوطنی کی دشمن نہیں ہوتی۔ ایک غریب باپ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، ایک ماں اپنے محدود وسائل میں گھر سنبھالتی ہے، ایک نوجوان اپنے ملک میں روزگار اور عزت کی تلاش میں جدوجہد کرتا ہے، ایک کسان اپنی زمین سے وابستہ رہتا ہے اور ایک عام شہری اپنے وطن کے امن اور خوشحالی کی خواہش رکھتا ہے۔ یہی تو حب الوطنی کی حقیقی تصویریں ہیں۔
دنیا کے سیاسی شعور نے ایک بنیادی حقیقت بہت پہلے تسلیم کر لی ہے کہ وطن، ریاست، حکومت اور ریاستی ادارے ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، پارلیمانیں تبدیل ہوتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، اداروں کی قیادتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں؛ لیکن وطن اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ لہٰذا کسی حکومت، سیاسی جماعت یا ریاستی ادارے کی پالیسی سے اختلاف کرنا وطن سے غداری نہیں۔ بلکہ بعض اوقات اپنے وطن کے مستقبل کے لیے سوال اٹھانا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، کرپشن کی نشاندہی کرنا، آئین کی بالادستی کا مطالبہ کرنا اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہی حقیقی حب الوطنی ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کوئی طاقتور ادارہ یہ سمجھنے لگے کہ حب الوطنی کا واحد معیار اس ادارے سے وفاداری ہے۔ پھر ایک خطرناک ذہنیت جنم لیتی ہے وہ یہ کہ جو ہماری حمایت کرے وہ محب وطن، جو سوال کرے وہ مشکوک، جو اختلاف کرے وہ ملک دشمن، جو احتجاج کرے وہ غدار اور جو خاموش رہے وہ وفادار۔ یہ طرزِ فکر کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ اس میں وطن کو عوام سے جدا کر دیا جاتا ہے اور ایک ادارے کو وطن کا واحد نمائندہ تصور کر لیا جاتا ہے۔
ایک ملک جس کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے۔ یہ ملک بھی غربت، بے روزگاری، مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کشمکش اور کئی دوسرے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے 25 کروڑ شہری اپنے وطن سے محبت نہیں کرتے؟ کیا وہ لوگ جو اپنی محنت کی کمائی سے بچوں کو پالتے ہیں، بیرونِ ملک جا کر بھی اپنے خاندانوں کو رقم بھیجتے ہیں، قدرتی آفات میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، سرحدوں پر اپنے رشتہ داروں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہیں، اپنے شہروں اور دیہات سے محبت کرتے ہیں—وہ محب وطن نہیں؟
اگر کوئی شہری حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتا ہے، کسی ادارے کے سیاسی کردار پر سوال اٹھاتا ہے یا اپنے حقوق کے لیے سڑک پر آتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے وطن سے وفاداری ختم کر دی؟ یہ منطق نہ جمہوری ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی عقلی۔
یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اگر کسی ملک میں یہ تصور پیدا کر دیا جائے کہ صرف عسکری قیادت اور فورسز ہی وطن کی وفادار ہیں، تو پھر باقی کروڑوں شہریوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ کیا ٹیکس دینے والا شہری محب وطن نہیں؟ کیا کسان، مزدور، ڈاکٹر، استاد، انجینئر، صحافی، تاجر، طالب علم اور بیرونِ ملک رہنے والا وہ شہری جو اپنے خاندان اور وطن کی مدد کرتا ہے، وطن کا وفادار نہیں؟ کیا اختلاف کرنے والا شہری اچانک اپنا وطن کھو دیتا ہے؟
اگر کسی معاشرے میں ایسا تصور جڑ پکڑ لے تو پھر طنزاً یہ سوال اٹھانا پڑتا ہے کہ کیا وطن کے باقی کروڑوں شہری انسان نہیں بلکہ صرف گنتی کے اعداد، یا گائے بھینسیں ہیں جنہیں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بھی طاقت کے مراکز سے لینا پڑے گا؟ یقیناً یہ ایک طنزیہ استعارہ ہے، مگر اس کے پیچھے سوال انتہائی سنجیدہ ہے کہ کسی شہری کی حب الوطنی کا فیصلہ کرنے کا اختیار کسی ایک ادارے یا قیادت کو کس نے دیا؟
دنیا کے غریب ممالک کے عوام نے جنگیں برداشت کیں، قحط دیکھے، ہجرتیں کیں، آمریتیں دیکھیں اور سیاسی بحرانوں سے گزرے، لیکن انہوں نے اپنے وطن سے تعلق نہیں توڑا۔ افغان شہریوں نے دہائیوں کی جنگ کے باوجود اپنے وطن سے رشتہ قائم رکھا۔ افریقی ممالک کے عوام نے نوآبادیاتی نظام، غربت اور داخلی تنازعات کے باوجود اپنی قومی شناختیں قائم رکھیں۔ برونڈی، نائجر، چاڈ اور جنوبی سوڈان جیسے ممالک کے عام شہری شاید دنیا کے امیر ترین لوگوں کی طرح دولت نہیں رکھتے، لیکن ان کے پاس اپنے وطن سے محبت کا وہ جذبہ ضرور ہے جسے کسی بینک اکاؤنٹ، فی کس آمدنی یا فوجی وردی سے نہیں ناپا جا سکتا۔
حقیقی حب الوطنی یہ نہیں کہ شہری ہر حکم پر سر جھکا دے۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ شہری اپنے ملک کے لیے بہتر مستقبل چاہے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے، قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرے، اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہے، اپنے وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہے اور آزادیِ اظہار، انصاف اور انسانی وقار کا مطالبہ کرے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے وطن کو کسی فرد، جماعت یا ادارے کی ملکیت سمجھنے سے انکار کرے۔
فوج ریاست کا ایک اہم ادارہ ہے۔ اس کا احترام اپنی جگہ، اس کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، لیکن ریاست کسی ایک ادارے کا نام نہیں اور وطن کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں۔ وطن سپاہی کا بھی ہے اور کسان کا بھی۔ وطن ڈاکٹر کا بھی ہے اور مزدور کا بھی۔ وطن صحافی کا بھی ہے اور استاد کا بھی۔ وطن حکومت کے حامی کا بھی ہے اور حکومت کے ناقد کا بھی۔ وطن اس شخص کا بھی ہے جو دارالحکومت میں بیٹھا ہے اور اس غریب شہری کا بھی جو کسی دور دراز گاؤں میں اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
اس لیے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے بجائے ریاستی اداروں کو یہ سوچنا چاہیے کہ عوام کو اپنے وطن سے محبت ثابت کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے ایسا نظام کیسے بنایا جائے جس میں عوام کو اپنے وطن پر فخر ہو۔ کیونکہ جس دن ریاست اپنے ہی شہریوں کی وفاداری پر مسلسل شک کرنے لگے، اس دن مسئلہ شہری کی حب الوطنی سے زیادہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے بحران کا بن جاتا ہے۔
اور یاد رکھیے کہ وطن سے محبت کا ثبوت وردی نہیں، کردار ہے۔ حب الوطنی کا ثبوت خاموشی نہیں، ذمہ داری ہے۔ اور وفاداری کا مطلب حکمرانوں سے وفاداری نہیں، اپنے وطن اور اس کے عوام سے وفاداری ہے۔
وطن کسی جنرل، کسی حکومت، کسی جماعت یا کسی ادارے کا نہیں،وطن عوام کا ہوتا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


