دنیا کے خفیہ اداروں سے آئی ایس آئی تک

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں آئی ایس آئی کے ایک عہدیدار کے کردار پر سوالات

تحقیقات کون کرے گا، جوابات کون دے گا؟

تحریر: خواجہ کبیر احمد

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جن کا بنیادی کام معلومات اکٹھی کرنا، ان کا تجزیہ کرنا، ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانا، دشمن ریاستوں اور تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ریاست کو قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ امریکہ کی سی آئی اے، اسرائیل کی موساد، برطانیہ کی ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس، روس کی سابق کے جی بی اور موجودہ ایف ایس بی، بھارت کی را اور پاکستان کی آئی ایس آئی اسی وسیع تر انٹیلی جنس نظام کا حصہ ہیں۔

ان اداروں کی سب سے بنیادی خصوصیت رازداری ہے۔ ان کے بہت سے کام، ذرائع، رابطے، طریقۂ کار، نیٹ ورک اور بعض اوقات ان کے اہلکاروں کی شناخت بھی عام لوگوں سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے۔ اس رازداری کی واضح وجہ یہ ہے کہ اگر دشمن کو یہ معلوم ہو جائے کہ کون شخص کہاں کام کر رہا ہے، کس ذریعے سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں اور کون سا نیٹ ورک کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو پورا آپریشن متاثر ہو سکتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر انٹیلی جنس افسر لازماً خفیہ شناخت رکھنے والا اہلکار نہیں ہوتا۔ بعض افسران انتظامی، رابطہ کاری، تجزیاتی یا دیگر ایسے عہدوں پر بھی ہوتے ہیں جن کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اس لیے صرف کسی افسر کے نام کے عوامی طور پر سامنے آنے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ وہ لازماً خفیہ آپریشنل عہدے پر ہے یا ادارے کی رازداری کا اصول ٹوٹ گیا ہے۔

اصل سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی حساس انٹیلی جنس ذمہ داری سے وابستہ کسی عہدیدار کا نام، عہدہ یا کردار کسی مخصوص علاقے میں اتنا معروف ہو جائے کہ وہ عوامی گفتگو، سیاسی بحث اور احتجاجی نعروں کا حصہ بن جائے۔ پھر سوال صرف اس فرد کی شناخت کا نہیں رہتا بلکہ یہ بھی پوچھنا پڑتا ہے کہ کیا اس صورتحال سے ادارے کی آپریشنل صلاحیت، اس کے ذرائع، اس کے رابطوں اور سب سے بڑھ کر اس کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہو رہی ہے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے اسی نوعیت کے سوالات عوامی سطح پر سنائی دے رہے ہیں۔ ایک حساس انٹیلی جنس عہدے سے منسوب ایک افسر کا نام سوشل میڈیا، احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی گفتگو میں بار بار سامنے آتا ہے۔ اس افسر کے بارے میں مختلف الزامات اور دعوے بھی گردش کرتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی بھی الزام کو محض عوامی دعوے، سوشل میڈیا پوسٹ یا احتجاجی نعرے کی بنیاد پر ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد انہیں صرف اس بنیاد پر نظر انداز کر دیا جائے کہ معاملہ ایک حساس ادارے سے متعلق ہے۔

یہ کسی فرد کے خلاف ذاتی مہم چلانے کی بات نہیں۔ سوال ایک اصول کا ہے، ایک ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ کا ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی اپنی قومی سلامتی کے مفاد کا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں انٹیلی جنس اداروں کے تجربات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ رازداری اور احتساب ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ ایک ادارہ اپنے آپریشنز کو خفیہ رکھ سکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قانون، داخلی نگرانی یا ریاستی احتساب کے ہر نظام سے باہر ہو جاتا ہے۔

مثلاً امریکہ میں سی آئی اے کے اندر باقاعدہ آفس آف انسپکٹر جنرل موجود ہے جو آزادانہ نگرانی، آڈٹ، معائنہ اور تحقیقات کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی کانگریس کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹیاں بھی سی آئی اے کے پروگراموں اور سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ یعنی سی آئی اے کا کام خفیہ ہو سکتا ہے، لیکن سی آئی اے خود احتساب سے باہر نہیں۔

برطانیہ میں بھی ایم آئی فائیو، ایم آئی سکس اور جی سی ایچ کیو کے لیے قانونی اور نگرانی کے متعدد نظام موجود ہیں۔ پارلیمانی نگرانی، عدالتی نگرانی اور آزاد نگران ادارے اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر کسی شخص کو یہ شکایت ہو کہ خفیہ اختیارات کا غیر قانونی استعمال ہوا ہے تو مخصوص قانونی راستوں کے ذریعے شکایت اور داد رسی کی گنجائش موجود ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم مثال 2026 میں خود برطانیہ سے سامنے آئی۔ ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک ایسے معاملے میں ادارہ جاتی ناکامی تسلیم کی جس میں عدالت کو غلط شواہد فراہم کیے گئے تھے۔ انہوں نے معذرت کی اور بتایا کہ ادارے نے ریکارڈ رکھنے، عدالتی کارروائی میں شواہد پیش کرنے اور خطرات سے متعلق اپنی پالیسیوں اور تربیت میں بہتری کے اقدامات کیے ہیں۔

اس مثال کا مطلب یہ نہیں کہ برطانوی ادارے غلطیوں سے پاک ہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ طاقتور اور خفیہ ادارہ بھی غلطی کرے تو اس غلطی کو تسلیم کرنے، تحقیقات کرانے اور اصلاح کرنے کا ادارہ جاتی راستہ موجود ہونا چاہیے۔

اسرائیل میں بھی موساد اور دیگر حساس ادارے مکمل طور پر ریاستی نگرانی سے باہر نہیں ہیں۔ کنیسٹ کی متعلقہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے ذریعے انٹیلی جنس اور خفیہ خدمات سے متعلق امور پر نگرانی کی جاتی ہے۔ یقیناً وہاں بھی ہر حساس آپریشن یا ہر خفیہ معلومات پارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھی جاتی، کیونکہ اس سے خود قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن اصول یہ قائم رہتا ہے کہ خفیہ کارروائی اور ادارہ جاتی نگرانی دو مختلف چیزیں ہیں۔

روس کی مثال اس تقابل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ سابق کے جی بی اور موجودہ ایف ایس بی کا سیاسی اور ریاستی ماحول امریکہ یا برطانیہ کے جمہوری نگرانی کے نظام سے مختلف ہے۔ اس لیے محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہر ملک میں انٹیلی جنس ادارے ایک ہی انداز میں جواب دہ ہیں۔ اصل فرق اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ قانون، پارلیمان، عدلیہ اور آزاد ادارے خفیہ اختیارات کی نگرانی کس حد تک کر سکتے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی ذمہ دار نظام میں یہ تصور نہیں ہونا چاہیے کہ چونکہ کوئی ادارہ قومی سلامتی سے متعلق ہے، اس لیے اس کے ہر افسر، ہر فیصلے اور ہر کارروائی کو سوال سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ قومی سلامتی کا مطلب یہ نہیں کہ سوال پوچھنا غداری ہے۔ بلکہ بعض اوقات قومی سلامتی کا تقاضا ہی یہ ہوتا ہے کہ ادارے کے اندر سے سوال اٹھایا جائے کہ کیا اختیار درست شخص کے پاس ہے، کیا کارروائی قانون کے مطابق ہے، کیا طریقۂ کار پیشہ ورانہ ہے اور کیا ادارے کی ساکھ کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا۔

پاکستان کے معاملے میں یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ یورپی یونین ایجنسی فار اسائلم (EUAA) کی 2026 کی پاکستان کنٹری فوکس رپورٹ نے آئی ایس آئی کو پاکستان کی بڑی انٹیلی جنس ایجنسی قرار دیتے ہوئے اس کے کردار اور نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کے بارے میں کوئی مخصوص قانون یا باقاعدہ نگرانی کا ایسا نظام موجود نہیں جس میں اس کی سرگرمیوں کو واضح طور پر منظم کیا گیا ہو۔

یہ ایک بین الاقوامی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ ہے؛ اس کے ہر بیان کو آخری اور ناقابلِ بحث فیصلہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ لیکن جب کسی بین الاقوامی ادارے کی باقاعدہ تحقیق پاکستان کے ایک انتہائی حساس ادارے کے اختیارات اور نگرانی کے نظام پر سوال اٹھاتی ہے تو کم از کم اس سوال پر سنجیدہ قومی بحث ضرور ہونی چاہیے۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ امریکہ اپنی سی آئی اے کے لیے اندرونی انسپکٹر جنرل اور کانگریسی نگرانی رکھ سکتا ہے، برطانیہ اپنے خفیہ اداروں کے لیے پارلیمانی اور عدالتی نگرانی کے متعدد راستے قائم رکھ سکتا ہے اور اسرائیل بھی اپنی انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لیے پارلیمانی نگرانی کا نظام رکھتا ہے، تو پاکستان میں آئی ایس آئی جیسے انتہائی طاقتور اور حساس ادارے کے اختیارات کے لیے واضح اور مضبوط ادارہ جاتی نگرانی کا سوال کیوں غیر معمولی سمجھا جائے؟

یہ سوال کسی دشمن کا نہیں۔ یہ ایک ذمہ دار ریاست کا سوال ہے۔

اور جب یہی معاملہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر جیسے متنازع اور حساس خطے سے جڑ جائے تو سوال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہاں عوامی حقوق کی تحریک، احتجاج، گرفتاریوں، سیاسی سرگرمیوں اور ریاستی اداروں کے کردار کے بارے میں پہلے ہی شدید عوامی بحث جاری ہے۔مثلاً :

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ تین سال سے زائد عرصے سے جاری عوامی حقوق کی پُرامن تحریک کے دوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران اور تحریک کے سرکردہ رہنماؤں سمیت سیکڑوں متحرک کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ جبری گمشدگیوں نے ایک انتہائی سنگین سوال کو جنم دیا ہے۔

گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصے کے دوران تحریک کے متعدد اہم رہنماؤں، جن میں راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، توصیف جرال ایڈووکیٹ، انجم زمان، اور سجاد پوٹھی شامل ہیں، کو گرفتار کیے جانے یا مبینہ طور پر اغوا کرکے جبری طور پر لاپتا کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے علاوہ تحریک کے سیکڑوں متحرک کارکن بھی مختلف مقدمات، گرفتاریوں اور حراستوں کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

30 جون 2026 کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر اور عوامی حقوق کی تحریک کے سرکردہ رہنما شوکت نواز میر کو بھی سرِعام فورسز نے گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کی حراست، مقام اور قانونی حیثیت کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کس قانونی اختیار کے تحت حراست میں رکھا گیا اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے حوالے سے قانونی تقاضے کیا ہیں؟

اس پوری صورتِ حال کے بارے میں عوامی سطح پر ایک حساس خفیہ عہدیدار کے کردار اور مبینہ اثر و رسوخ کے حوالے سے سنگین الزامات اور سوالات گردش کر رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوامی سطح پر لگایا جانے والا الزام بذاتِ خود کسی فرد کے خلاف جرم کا ثبوت نہیں ہوتا۔ لیکن جب کسی حساس ریاستی ادارے کے کسی عہدیدار کے بارے میں اس نوعیت کے الزامات مسلسل عوامی بحث کا حصہ بن جائیں، تو سوال صرف الزام لگانے والوں سے نہیں بلکہ متعلقہ ادارے سے بھی بنتا ہے کہ وہ ان الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے کیا داخلی اور غیر جانب دار طریقۂ کار اختیار کرتا ہے۔

اصل سوال کسی ایک شخص کو مجرم قرار دینا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں شہریوں کی گرفتاری، حراست اور مبینہ جبری گمشدگیوں جیسے معاملات میں اختیار کہاں استعمال ہوا، کس قانونی اختیار کے تحت استعمال ہوا، ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اس اختیار کا احتساب کون کرے گا؟

اور اگر عوامی سطح پر کسی خفیہ عہدیدار کا نام ان واقعات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، تو کیا متعلقہ ادارے کے لیے خاموش رہنا کافی ہے، یا قومی سلامتی اور ادارہ جاتی ساکھ کے تقاضے یہ ہیں کہ وہ خود اپنے اندر ان سوالات کا جائزہ لے؟یہی وہ مقام ہے جہاں خفیہ اختیار، شہری آزادیوں اور ادارہ جاتی جواب دہی کا سوال ایک دوسرے سے جڑ جاتا ہے۔

عوامی سطح پر یہ دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ پُرامن عوامی حقوق کی تحریک کے دوران پیش آنے والی بعض ہلاکتوں، گرفتاریوں، حراستوں اور مبینہ جبری گمشدگیوں میں مختلف ریاستی اداروں یا اہلکاروں کا کردار رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات کے بغیر انہیں ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اگر کسی شخص کو کسی خفیہ ادارے کے کسی افسر سے منسوب کیا جا رہا ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ الزام کو فوراً سچ مان لیا جائے۔ لیکن حل یہ بھی نہیں کہ چونکہ الزام ایک حساس ادارے سے متعلق ہے، اس لیے تحقیقات ہی نہ ہوں۔

درست راستہ آزادانہ اور پیشہ ورانہ تحقیقات ہے۔

اگر شوکت نواز میر کے معاملے میں کسی ریاستی ادارے یا اہلکار پر غیر قانونی حراست یا کسی دوسرے سنگین اقدام کا الزام ہے تو اس الزام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر الزام غلط ہے تو تحقیقات اسے غلط ثابت کر سکتی ہیں۔ اگر تحقیقات میں الزام درست ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔ دونوں صورتوں میں ادارے کی ساکھ مضبوط ہوگی۔

یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: انٹیلی جنس ادارے کا کام کیا ہے؟

انٹیلی جنس کا بنیادی مقصد معلومات حاصل کرنا، خطرات کا اندازہ لگانا، ریاست کو خبردار کرنا اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ انٹیلی جنس اور سیاسی کنٹرول ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ قومی سلامتی کا ادارہ کسی حکومت، سیاسی جماعت یا کسی فرد کی سیاسی ضرورت کا محافظ نہیں بلکہ ریاستی مفاد، آئینی نظام اور قومی سلامتی کا محافظ ہونا چاہیے۔

اگر کسی خفیہ ادارے کے بارے میں عوامی تاثر یہ بننے لگے کہ وہ سیاسی اختلاف، احتجاج یا عوامی حقوق کی تحریک کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ خود قومی سلامتی کے ادارے کی ساکھ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

کیونکہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی حفاظت بھی قومی سلامتی ہے۔

اسی لیے اگر کسی حساس انٹیلی جنس عہدے سے وابستہ افسر کا نام پورے خطے میں عام ہو جائے، اس کی شناخت احتجاجی سیاست کا حصہ بن جائے اور اس کے ساتھ سنگین الزامات منسوب ہونے لگیں تو ایک پیشہ ور ادارے کو کم از کم اپنے اندر یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ صورتحال کیا ہے؟

کیا یہ واقعی متعلقہ افسر کا درست اور مجاز کردار ہے؟

کیا اس کی شناخت کا عوامی سطح پر اتنا نمایاں ہو جانا ادارے کی آپریشنل سلامتی کو متاثر کر رہا ہے؟

کیا اس افسر کے خلاف گردش کرنے والے الزامات محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں یا ان میں کوئی ایسا مواد بھی ہے جس کی ادارہ جاتی تحقیقات ضروری ہیں؟

کیا متعلقہ افسر کی موجودگی سے ادارے کی غیر جانب داری اور ساکھ پر سوال اٹھ رہے ہیں؟

اور اگر ایسے سوالات مسلسل پیدا ہو رہے ہیں تو کیا ادارے کے مفاد میں یہ نہیں کہ وہ خاموش رہنے کے بجائے اپنے داخلی احتساب کے نظام کو حرکت میں لائے؟

ایک پیشہ ور ریاست میں افسر کی تبدیلی شکست نہیں ہوتی۔ اگر کسی تعیناتی کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہو جائیں تو اس کا جائزہ لینا، ضرورت پڑنے پر ذمہ داری تبدیل کرنا یا تحقیقات کرانا ادارہ جاتی کمزوری نہیں بلکہ ادارہ جاتی طاقت کی علامت ہوتا ہے۔

اسی طرح کسی افسر کو صرف اس بنیاد پر قصوروار قرار دینا بھی انصاف نہیں کہ اس کا نام احتجاج میں لیا جا رہا ہے۔ نام آنا ثبوت نہیں، الزام ثبوت نہیں اور عوامی تاثر بھی عدالتی فیصلہ نہیں۔

لیکن یہی اصول ریاستی اداروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے: اختیار ہونا بھی بے گناہی کا ثبوت نہیں۔

اس لیے اصل سوال فرد نہیں، نظام ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک حساس ادارے کے کسی اہلکار کے بارے میں سنگین الزامات مسلسل سامنے آ رہے ہوں تو ان کی تحقیقات کون کرے گا؟ اگر الزام غلط ہو تو ادارہ اسے غلط ثابت کرنے کے لیے کیا کرے گا؟ اگر الزام درست ہو تو کارروائی کون کرے گا؟ اور اگر کسی افسر کی موجودگی ہی ادارے کی ساکھ، آپریشنل ضرورت یا عوامی اعتماد کے لیے نقصان دہ بن رہی ہو تو فیصلہ کون کرے گا؟

دنیا کے مختلف انٹیلی جنس نظاموں کا تقابلی جائزہ کم از کم ایک بنیادی اصول ضرور سامنے لاتا ہے: خفیہ ادارہ ہونا احتساب سے استثنا نہیں دیتا؛ بلکہ خفیہ اختیار زیادہ مضبوط احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔

جتنی زیادہ طاقت، اتنی زیادہ ذمہ داری۔
جتنا زیادہ خفیہ اختیار، اتنا زیادہ داخلی احتساب۔
اور جتنا حساس علاقہ، اتنی زیادہ پیشہ ورانہ احتیاط۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں آج جو سوال عوامی سطح پر اٹھ رہے ہیں، انہیں محض سیاسی نعرہ کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے آنا خود ریاست کے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر کہیں قانون یا طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین بھی ریاستی مفاد میں ہے۔

کیونکہ کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ لوگ اس سے سوال کرنے سے ڈریں۔ اصل طاقت اس بات میں ہے کہ لوگ یہ یقین رکھیں کہ اگر سوال اٹھایا جائے گا تو ادارہ قانون، دلیل اور شفاف داخلی احتساب کے ذریعے جواب دے گا۔

آخر میں سوال پھر وہی ہے:

اگر کسی خفیہ ادارے کا عہدیدار عوام کے لیے خفیہ نہیں رہا، اس کا نام احتجاج کی زبان بن چکا ہے اور اس کے ساتھ سنگین الزامات جڑ چکے ہیں، تو کیا خاموشی واقعی ادارے کے مفاد میں ہے—یا ادارے کے مفاد میں یہ ہے کہ وہ خود اپنے اندر سوال اٹھائے؟

یہ سوال کسی دشمن کا نہیں۔
یہ قومی سلامتی کے اصول کا سوال ہے۔

٭٭٭

Share this content: