مظفرآباد/ کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ :
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی تحریک کو جس نوعیت کے شدید ریاستی دباؤ اور جبر کا سامنا ہے، وہ اب محض چند سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں تک محدود نہیں رہا۔ دستیاب اطلاعات اور گراؤنڈ رپورٹس کے مطابق عام بے گناہ اور معصوم شہریوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ، خطے میں لیفٹ (بائیں بازو) کے نظریات رکھنے والے رہنماؤں، قوم پرستوں اور فعال کارکنوں کو خصوصاً مختلف مقدمات، گرفتاریوں، شدید پابندیوں اور انتقامی انتظامی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کی قیادت کا فکری محاصرہ اور کریک ڈاؤن
اس سنگین صورتحال میں ‘جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی’ (JKPNP) کی تقریباً پوری مرکزی لیڈرشپ اور قیادت کے خلاف جاری کارروائیاں خاص طور پر قابلِ توجہ اور تشویشناک ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق پارٹی کے مختلف عہدیداروں کو درج ذیل بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے:
واجد علی واجد ایڈووکیٹ (چیئرمین): پارٹی چیئرمین کی نقل و حرکت کو زبردستی محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کا قومی شناختی کارڈ اور موبائل فون نمبرز بلاک کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
الیاس کشمیری (سیکریٹری جنرل): ان کا نام فورتھ شیڈول (Schedule 4) میں ڈالا گیا ہے، تمام بینک اکاؤنٹس بند کر دیے گئے ہیں، ان کے خلاف متعدد سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں جبکہ ان کا اور ان کے بھائی کا ذاتی کاروبار بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
آصف کشمیری (وائس چیئرمین): تقریباً چار ہفتے قبل میرپور میں ان کی بہن کے گھر سے حراست میں لیے جانے کے بعد سے وہ نا معلوم مقام پر منتقل ہیں اور آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ذوالفقار راجہ ایڈووکیٹ (سابق چیئرمین): پارٹی کے سابق چیئرمین کو بھی شیڈول فور میں شامل کر کے ان پر سخت سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
سلمہ حمید (صدر، ضلع باغ): باغ چیپٹر کی صدر سلمہ حمید کے خلاف بھی متعدد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
کرن کنول (سیکریٹری نشر و اشاعت): پارٹی کی سیکریٹری نشر و اشاعت کرن کنول بھی مسلسل ریاستی کارروائیوں اور انتقام کا سامنا کر رہی ہیں۔
حبیب رحمان (بین الاقوامی سیکریٹری): پارٹی کے بین الاقوامی سیکریٹری کے خلاف بغاوت جیسے سنگین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
عجب خان (رہنما، مقیم برطانیہ): برطانیہ میں مقیم پارٹی رہنما عجب خان کے خاندان کے بے گناہ نوجوانوں کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کر کے حراست میں رکھا گیا ہے۔
باغ کی لائبریری کی بندش: سیاسی تنظیم سے زیادہ فکری شعور سے خوف؟
ضلع باغ میں JKPNP کے زیرِ اہتمام قائم کی گئی لائبریری کو بھی انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے۔ یہ لائبریری ایک ایسا مرکز تھی جہاں نوجوانوں کو کتاب، مطالعے اور سیاسی و فکری مباحث سے جوڑنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی تھی۔
اس لائبریری کی بندش اس اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ ریاستی کارروائی کا ہدف صرف ایک سیاسی تنظیم ہے یا وہ فکری عمل بھی جس کے ذریعے نوجوانوں میں بائیں بازو کا سیاسی شعور پیدا ہو رہا ہے؟ رياست لائبریری سیل کر سکتی ہے، کتابوں تک رسائی روک سکتی ہے، کاروبار بند کر سکتی ہے اور کارکنوں کو گرفتار کر سکتی ہے؛ لیکن کسی معاشرے میں پیدا ہونے والے سوالات کو کبھی سیل نہیں کر سکتی۔
این ایس ایف (JKNSF) اور دیگر قوم پرستوں پر تشدد
ریاستی جبر کا یہ سلسلہ صرف ایک جماعت تک محدود نہیں، بلکہ جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) اور دیگر قوم پرست تنظیموں سے وابستہ افراد کو بھی اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے:
اسامہ جمیل شہید (پی ایچ ڈی اسکالر): این ایس ایف کے نمایاں رہنما اور پی ایچ ڈی اسکالر اسامہ جمیل کا قتل اس پورے منظر نامے کا ایک انتہائی سنگین اور المناک واقعہ ہے، جنہیں مبینہ طور پر خود قتل کیا گیا۔
مقدمات اور ہلاکتیں: این ایس ایف اور دیگر قوم پرست جماعتوں کے بے شمار نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں جبکہ متعدد افراد کو جان سے مار دیا گیا ہے۔
آخر ‘جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی’ ہی کیوں؟
اس سوال کا جواب اس جماعت کے بنیادی سیاسی اور نظریاتی کردار میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ JKPNP نے طویل عرصے سے بائیں بازو کے نظریات، طبقاتی شعور، قومی سوال، سماجی انصاف اور عوامی حقوق کے موضوعات پر مسلسل سیاسی و نظریاتی کام کیا ہے۔ اس نے نوجوانوں کو محض سیاسی نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے کتاب، مطالعے اور نظریاتی بحث سے جوڑا۔ باغ کی لائبریری بھی اسی فکری عمل کی ایک روشن علامت تھی۔
عوامی تحریکیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں؛ ان کے پیچھے برسوں کی سیاسی جدوجہد، فکری تربیت، تنظیم سازی اور عوامی تجربات موجود ہوتے ہیں۔ آج اگر کشمیر میں ایک بڑی عوامی تحریک اپنے بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور سیاسی اختیار کے سوالات اٹھا رہی ہے تو اس کے فکری پس منظر میں بائیں بازو اور ترقی پسند قوتوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، کریک ڈاؤن اور سنسرشپ
موجودہ عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے ریاست کا کریک ڈاؤن انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے:
شوکت نواز میر کی روپوشی و بے دخلی: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر و دیگر اہم نمائندوں کی گرفتاری کے بعد انہیں ابھی تک کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اور ان کے حوالے سے کوئی معلوماتی رسائی نہیں ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔
جبری گمشدگیاں اور روپوشی: ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین گرفتار اور جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ جبکہ کئی سیاسی و سماجی ایکٹیوسٹس خود کو ریاستی تشدد اور گرفتاری سے محفوظ رکھنے کے لیے روپوش ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
انسانی ہلاکتیں اور ہولوکاسٹ کی صورتحال: جاری عوامی تحریک میں اب تک سیکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ اور نسل کشی کی پالیسی کے تحت سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
بلیک آؤٹ: خطے میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا کو گراؤنڈ رپورٹنگ سے روک دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے فوج کی جانب سے ہولوکاسٹ جیسی بھیانک صورتحال جاری ہے اور کشمیری عوام کو زندہ درگور کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
عوامی رویوں میں تبدیلی اور مستقبل کا راستہ
ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال سے عوام میں ریاست کے خلاف ایک واضح لکیر اور گہری نفرت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ کل تک جو کشمیری مقتدرہ کے دیے گئے نعرے "کشمیر بنے گا پاکستان” لگاتے تھے، آج شدید ردِعمل میں "مرگ بر پاکستان” اور مکمل آزاد کشمیر کے نعرے لگا رہے ہیں۔
جموں کشمیر کے اس موجودہ بحران کا حل مزید جبر و تشدد میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، شفاف عدالتی عمل اور عوامی مطالبات کو سچائی سے سننے میں ہے۔ اگر کسی کے خلاف جرم کے شواہد ہیں تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن سیاسی اختلاف اور کتاب و نظریے کی سیاست کو جرم بنا دینا خطے کے جمہوری مستقبل کے لیے ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔
٭٭٭
Share this content:


