بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت مسلح افراد کی ناکہ بندی ، شاہراہوں پر گشت، ہوٹل دھماکے سے تباہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں خاران، قلات، سوراب، نوشکی اور مستونگ میں مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندیوں، اسنیپ چیکنگ، فائرنگ، پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے اور ہوٹل کو دھماکے سے تباہ کرنے کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق خاران کے علاقے دالی میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ قائم کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی باقاعدہ چیکنگ کی۔

اسی طرح قلات کے علاقے دشت گوران میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی اور گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ضلع سوراب سے بھی مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی کیے جانے کی خبریں ہیں، جہاں عینی شاہدین کے مطابق مسلح مردوں کے ساتھ خواتین کی موجودگی کی بھی اطلاع ہے۔

ضلع نوشکی کے مرکزی شہر میں مسلح افراد کے داخلے اور کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے شہر کے ایک نجی بینک کے سامنے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بینک کا سیکیورٹی کیمرہ ناکارہ ہو گیا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بعد ازاں مسلح افراد بازار کے طارق چوک پہنچے، جہاں انہوں نے موقع پر موجود دو پولیس اہلکاروں کو نہتا کر کے ان کا اسلحہ ضبط کر لیا۔

واقعے کے فوراً بعد نوشکی بازار مکمل طور پر بند ہو گیا اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔

واقعے کے کچھ دیر بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے بازار پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کیا، تاہم سرکاری حکام کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب، ضلع مستونگ کی تحصیل کھڈکوچہ کے علاقے ریکی بوز میں گزشتہ شام نامعلوم مسلح افراد نے مدینہ ہوٹل کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ہوٹل کی پوری عمارت زمین بوس ہو گئی اور ملحقہ پرچون کی دکان مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

علاوہ ازیں، قریب قائم ٹیوب ویلوں کی تقریباً 250 سولر پلیٹیں ناکارہ ہو گئیں اور قریبی مکانات کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اگرچہ ان واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی سرکاری یا انتظامی سطح پر کوئی موقف سامنے آیا ہے، تاہم کارروائیوں کا اسلوب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پیچھے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں متحرک ہیں۔ مختلف اضلاع میں یکوقت ناکہ بندیاں اور فائرنگ کے یہ واقعات خطے میں حکومتی رٹ اور انتظامی کنٹرول پر شدید سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔

Share this content: