گلگت بلتستان میں قیمتی جڑی بوٹیوں کی مبینہ غیر قانونی کٹائی، 139 بوریاں تحویل میں لے لی گئیں

غذر/ کاشگل نیوز

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی وادی یاسین میں قیمتی جڑی بوٹیوں کی مبینہ غیر قانونی کٹائی اور نقل و حمل کے پے در پے واقعات سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تازہ کارروائی میں محکمہ جنگلات نے 26 ستمبر کے قریب نازبر نالہ سے مبینہ طور پر 139 بوریوں میں جمع کی گئی جڑی بوٹیاں اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل یاسین کے بالائی علاقے درکوت میں بھی محکمہ جنگلات نے کارروائی کرتے ہوئے ایفیڈرا (Ephedra) سمیت بڑی مقدار میں جڑی بوٹیاں تحویل میں لی تھیں۔ حالیہ دونوں واقعات کے بعد مقامی حلقوں نے قیمتی medicinal plants کی بڑے پیمانے پر کٹائی اور ممکنہ غیر قانونی تجارت کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نازبر، درکوت اور یاسین کے دیگر بالائی علاقے قیمتی قدرتی نباتات، چراگاہوں اور جنگلی حیات کے اہم مسکن ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر غیر سائنسی harvesting سے قدرتی regeneration اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ جنگلات گلگت بلتستان کی جانب سے 2025 میں غذر سمیت منتخب اضلاع میں medicinal and aromatic plants کی baseline inventory اور carrying-capacity assessment کی ضرورت بھی سامنے لائی گئی تھی، تاکہ ان پودوں کی تجارتی harvesting کو سائنسی اور پائیدار بنیادوں پر منظم کیا جاسکے۔

مقامی کمیونٹی نے حکومت گلگت بلتستان، محکمہ جنگلات، GB-EPA اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نازبر اور درکوت کے واقعات کی شفاف تحقیقات کرکے یہ معلوم کیا جائے کہ اتنی بڑی مقدار میں جڑی بوٹیاں کس کے لیے جمع کی گئیں، ان کے خریدار کون تھے اور آیا اس کے پیچھے کوئی منظم تجارتی نیٹ ورک موجود ہے۔

مقامی حلقوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ کارروائی صرف جڑی بوٹیاں جمع کرنے والے افراد تک محدود نہ رکھی جائے بلکہ ممکنہ خریداروں، ٹھیکیداروں اور پوری supply chain کی تحقیقات کی جائیں، جبکہ مستقبل میں commercial harvesting سے قبل species inventory، carrying-capacity assessment، ضروری ماحولیاتی جائزہ اور مؤثر permit و monitoring system لازمی قرار دیا جائے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق قدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو معاشی فائدہ ضرور ملنا چاہیے، تاہم قیمتی جڑی بوٹیوں کی تجارت ایسے پائیدار نظام کے تحت ہونی چاہیے جس سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ یاسین کے حساس پہاڑی ماحولیاتی نظام کو بھی نقصان نہ پہنچے۔

Share this content: