سپریم کورٹ کا عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد میں واقع نجی ہسپتال شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کو صحت کے بارے میں بنیادی حق ہے۔

عدالت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہن عظمی خان کی درخواستوں پر دیا ہے جنھوں نے سابق وزیر اعظم کی صحت اور ان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی سے متعلق درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنا حکم نامہ سناتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں پی ٹی آئی کوئی سیاست نہیں کرے گی اور سابق وزیر اعظم اگلی سماعت تک ہسپتال میں ہی رہیں گے۔

عدالت نے ان درخواستوں کی اگلی سماعت سولہ ستمبر مقرر کی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کے علاج پر اٹھنے والے تمام اخراجات ان کی فیملی ادا کرے گی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عمران خان کو جب ہسپتال منتقل کیا جائے تو وہاں پر امن وامان کی صورت حال میں کوئی خلل پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے قبل اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے، جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا آخری مرتبہ طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ نے کیا تھا اور اس میڈیکل بورڈ میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم میڈیکل رپورٹ کے مطابق سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی تھیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے حکم کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہمیں انصاف مل گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا کام انصاف دینا ہے، اگر عدالتیں انصاف نہیں دینگی تو عوام کہاں جائے گی؟

عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج عدالت عظمی سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ریاست کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ عمران خان کی صحت مقدم ہے اور حکم دیا ہے کہ دو دنوں میں عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حکم ہوا جو ہم ایک سال سے مانگ رہے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے جس میں تمام شعبوں کے سپیشلسٹ شامل ہوں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمران خان کو جو بلڈ پریشر کی بیماری بتائی جا رہی ہے وہ کیوں لاحق ہوئی؟عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟

Share this content: