کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مارکیٹ کھولنے کی کوشش ناکام، انتظامیہ نے دکانیں سیل کر کے متعدد تاجر گرفتار کرلیے

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران منگل کے روز راولاکوٹ میں صورتِ حال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مقامی انتظامیہ نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہدایت پر کھولی جانے والی مارکیٹوں کو زبردستی بند کرا دیا۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز تاجروں کو کاروبار اور مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دی گئی تھی، جس کے بعد راولاکوٹ میں دکانداروں نے اپنی دکانیں کھولنا شروع کیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق دکانیں کھلتے ہی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور تاجروں کو سستے داموں یا کمیٹی کی اپیل پر دکانیں نہ کھولنے کا حکم دیا۔

دکانیں زبردستی بند کرانے کے دوران انتظامیہ نے سختی برتی اور تعمیل نہ کرنے پر متعدد دکانداروں کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔

راولاکوٹ سمیت خطے کے دیگر علاقوں میں گزشتہ ڈھائی مہینوں سے جاری مسلسل ہڑتال، دکانوں کی بندش اور پاکستانی فورسز کی جانب سے ریاست کشمیر کی ناکہ بندی کے باعث سخت انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔

بنیادی ضرورت کی اشیاء، بالخصوص ادویات اور اشیائے خور و نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

مقامی تاجروں اور عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف مسلسل بندش سے ان کا روزگار تباہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف جب وہ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر محدود پیمانے پر کاروبار بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انتظامیہ کی جانب سے انتقامی کارروائیاں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔

Share this content: