پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں بنیادی حقوق کے لیے گزشتہ ڈھائی ماہ سے جاری عوامی تحریک کے دوران فورسز کی سخت اقدامات اور ناکہ بندی کے باعث حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف عام شہری، خواتین، بچے اور بوڑھے احتجاج میں شریک ہیں، وہیں دوسری جانب سیکیورٹی اداروں کے اندر بھی دراڑیں اور گرفتاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق فرنٹیئر کور (FC) نے آزاد کشمیر پولیس کے 43 نوجوانوں اور 3 نچلے درجے کے افسران کو حراست میں لے کر نامعلوم یا خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی کے ماہ سے اب تک ان پولیس اہلکاروں کو پہلے مظفرآباد منتقل کیا گیا، جہاں آئی جی پولیس کے سامنے پیش کرنے کے بعد ایف سی نے انہیں حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی گفتگو یا رویہ اختیار کیا جس سے فورسز کے اندر بغاوت پیدا ہونے اور امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے کا خطرہ تھا۔ اسی خدشے کے پیش نظر ان کے خلاف یہ قدم اٹھایا گیا۔
محکمہ پولیس کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی اور پولیس حکام اس معاملے پر گفتگو کرنے سے مسلسل گریز کر رہے ہیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے مظفرآباد، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں دھرنے اور احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں، جن کا مرکزی نقطہ راولاکوٹ کا دھرنا ہے۔
پاکستانی فورسز کی جانب سے خطے کی مکمل ناکہ بندی کے باعث اشیائے خور و نوش، راشن اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس نے علاقے میں سنگین معاشی و انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔
ریاست اور فورسز کی جانب سے احتجاج دبانے کے لیے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر سمیت متعدد سرگرم رہنماؤں اور فعال کارکنان کو گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جن کا تاحال کوئی سُراغ نہیں مل سکا اور ان کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
خطے میں مسلسل ناکہ بندی، گرفتاریوں اور آزاد کشمیر پولیس اہلکاروں کی حراست سے عوام اور انتظامی سطح پر شدید غم و غصہ اور سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔
Share this content:


