بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے اسیر رہنماؤں کی جانب سے فیس لیس ٹرائلز اور جیل کے اندر ان کی غیر موجودگی میں جاری عدالتی کارروائیوں کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہائیکورٹ کے اس قدم کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ درخواست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جو اس وقت ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں اسیر ہیں۔
درخواست میں 24 نومبر 2025، 10 اکتوبر 2025 اور 12 جون 2026 کے حکومتی نوٹیفکیشنز سمیت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21 کے اطلاق کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 14، 25 اور 175(3) کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انتظامیہ کے دباؤ، غیر شفاف طریقے اور جیل کے اندر ملزمان اور ان کے وکلاء کی عدم موجودگی میں کی جانے والی تمام کارروائیوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور مقدمات کو کسی دوسری بااختیار عدالت میں منتقل کیا جائے۔
درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ انہیں اپنے وکلاء سے بغیر کسی نگرانی کے خفیہ اور آزادانہ ملاقات کا حق دیا جائے، جبکہ تمام تر سماعتیں 12 جون کے نوٹیفکیشن سے پہلے کی طرح عوام کے لیے کھلی عدالتوں (Open Court) میں منتقل کی جائیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ فیس لیس یا بند کمرے کے ٹرائلز ملزمان کے بنیادی حقوق، شفافیت اور منصفانہ سماعت کے حق (Fair Trial) کے منافی ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ درخواست صرف اسیر قیادت کا ذاتی قانونی معاملہ نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کا اہم سوال ہے۔
بی وائی سی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اسیر رہنماؤں کے بنیادی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام پرامن اور قانونی راستے استعمال کرتی رہے گی۔
Share this content:


