پلندری میں عوامی ایکشن کمیٹی کا پاور شو: قافلوں کی پیش قدمی، فورسز کی فائرنگ وجھڑپیں

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے ہیڈکوارٹر پلندری میں 19 اگست کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی اپیل پر ایک عظیم الشان اور تاریخی عوامی طاقت کا مظاہرہ جاری ہے۔ گزشتہ ڈھائی ماہ سے بنیادی معاشی و شہری حقوق کی بحالی کے لیے جاری اس تحریک میں تمام تر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

دیوان گوراہ اور دیگر علاقوں سے بچے، خواتین، بوڑھے اور نوجوانوں پر مشتمل بڑے قافلے جوش و خروش سے پلندری کی جانب رواں دواں ہیں۔ کئی اہم قافلے سیکیورٹی رکاوٹیں توڑ کر شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔

تراڑکھل سے آنے والی فورسز کی پیش قدمی اور پلندری سٹی تھانے کی پولیس کو بیتراں کے مقام پر پرجوش مظاہرین نے روک لیا ہے۔ علاقے کا انتظامی کنٹرول اس وقت عوام کے ہاتھ میں ہے اور فورسز کو آگے نہیں بڑھنے دیا جا رہا۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے قافلوں کو روکنے کے لیے مختلف پوائنٹس پر سخت اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ چند سائٹس پر مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام چلنے والی اس تحریک کا مرکزی نقطہ راولاکوٹ میں قائم دھرنا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اور مقامی سورسز کے مطابق حالات انتہائی نازک رخ اختیار کر چکے ہیں۔

پاکستانی فورسز کی جانب سے خطے کی مسلسل ناکہ بندی کے باعث ادویات، راشن اور بنیادی اشیائے خور و نوش کی سخت قلت پیدا ہو چکی ہے۔

رہنماؤں کا الزام ہے کہ فورسز کی جانب سے سیدھی فائرنگ سے اب تک 100 سے زائد نہتے شہری ہلاک اور سیکڑوں شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

تحریک کے دوران ہزاروں مظاہرین اور ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر سمیت دیگر فعال کارکنان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جن کی تاحال کوئی خبر نہیں مل سکی۔

ریاستی اقدامات، گرفتاریوں اور ناکہ بندی نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام طبقات اپنے حقوق کے حصول تک احتجاج جاری رکھنے پر بضد ہیں۔

Share this content: