بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور بم دھماکوں کے سلسلے میں تیزی آئی ہے۔ کوئٹہ، قلات اور نوشکی میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں فوج و پولیس کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے ترجمان بلوچ خان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں نوشکی میں فورسز پر ہونے والے بڑے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
17 اگست بروز پیر، نوشکی کے علاقے ‘کچکی’ میں لیویز تھانے کے قریب پاکستانی فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے نتیجے میں فوج کی 3 گاڑیاں تباہ ہو گئیں، جبکہ 7 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 8 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے فورسز کا ایک کواڈ کاپٹر بھی مار گرایا۔
ضلع قلات کے علاقے منگچر کے قریب ‘مکئی’ کے مقام پر فورسز کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت آئی ای ڈی (IED) دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی پوسٹ کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں 6 اہلکار متاثر ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے ایک اہلکار کی شناخت امداد اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ونڈا چکری (لکی مروت) سے تھا۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے سریاب روڈ پر بلوچستان یونیورسٹی کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے ساریاپ روڈ پر واقع کچی بیگ پولیس اسٹیشن پر دستی بم پھینکا۔
بم حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد فورسز نے سریاب روڈ اور گردونواح کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
Share this content:


