اے آئی آرٹ کے ذریعے احتجاج: کشمیر میں فورسز کے غیر اخلاقی اقدامات اور چوریوں کی عکاسی

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں بنیادی حقوق کے لیے گزشتہ ڈھائی ماہ سے جاری حقیقی عوامی تحریک کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا سخت رویہ اور کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم، اس تمام تر صورتِ حال کے درمیان سوشل میڈیا پر کشمیری عوام مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز کے ذریعے تخلیق کردہ تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے پاکستانی فورسز کی تشدد، بدسلوکی، چوریوں اور گھروں میں ہراساں کرنے جیسے رویوں کو نمایاں طور پر عیاں کر رہے ہیں۔

کاشگل نیوز کو موصول ہونے والی اے آئی (AI) ٹیکنالوجی سے تیار کردہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ فورسز کے اہلکار کشمیر کی گلیوں اور بازاروں میں مرغیاں پکڑتے اور چوری کرتے نظر آتے ہیں۔

مظاہرین اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ان اے آئی آرٹ ورکس کے ذریعے وہ فورسز کی ان کارروائیوں، ڈکیتیوں اور گھروں میں گھس کر چادر و چاردیواری کی پامالی کو دنیا کے سامنے بطورِ احتجاج لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز ضلع سدھنوتی کے ہیڈکوارٹر پلندری میں ایک تاریخی اور پرجوش قومی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز نے قافلوں کو روکنے اور ناکہ بندی کی بھرپور کوشش کی، تاہم مظاہرین نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے فورسز کو پلندری شہر کے اندر داخل نہیں ہونے دیا اور علاقے پر عوامی کنٹرول برقرار رکھا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ظلم اور ناکہ بندی کے باوجود کشمیری عوام پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں، اور یہ کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” کا روایتی مؤقف اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے زیرِ اہتمام مرکزی دھرنا راولاکوٹ میں مسلسل جاری ہے۔

ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ تحریک کے دوران فورسز نے براہِ راست فائرنگ کر کے 100 سے زائد نہتے شہریوں کو قتل کیا، جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

خطے میں ادویات، راشن اور بنیادی اشیائے خور و نوش کی سخت ناکہ بندی کے باعث انسانی بحران اور شدید فاقہ کشی کی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔

ایکشن کمیٹی کا عزم ہے کہ تمام تر تشدد اور ناکہ بندی کے باوجود جب تک بنیادی اور حقوق کی مکمل بحالی نہیں ہوتی، عوامی احتجاج کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔

Share this content: