بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پاکستانی فوج ، سی ٹی ڈی اور ایف سی نے علی الصبح ایک گھر پر چھاپہ مارا جہاں خواتین اور شیر خوار بچہ سمیت 4 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاگیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تصدیق شدہ ڈیٹا کے مطابق، 19 اگست 2026ء کو صبح 4:00 بجے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور فرنٹیئر کور (FC) نے کوئٹہ کے علاقے گشگوری ٹاؤن میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک ہی خاندان کے 4 افراد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
جبری لاپتہ کیے گئے افراد کی تفصیلات:
عمیرہ بنت عبدالرسول: عمر 27 سال، پیشہ گھریلو خاتون، رہائشی کابو (مستونگ)۔
نجمہ بنت عبدالرسول: عمر 28 سال، پیشہ گھریلو خاتون، رہائشی کابو (مستونگ)۔
پریسا بنت من دوست: عمر 8 سال (مونٹیسوری کی طالبہ)، رہائشی کابو (مستونگ)۔
ذاکر ولد عبدالحق: عمر محض ڈھائی (1.5) سال (شیر خوار بچہ)، رہائشی کابو (مستونگ)۔
بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں کمسن اور شیر خوار بچوں کی جبری گمشدگی کا یہ واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور سیکیورٹی اداروں کے غیر آئینی اقدامات کا تسلسل ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب کمسن بچوں اور شیر خوار شیرخواروں کو بھی جبری طور پر لاپتہ کرنے کی پالیسی کو معمول بنایا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت براہ راست جنگی جرائم کی زمرے میں آتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ایک ڈیڑھ سال کے شیر خوار بچے اور 8 سالہ بچی سمیت خواتین کو علی الصبح ان کے گھروں سے اٹھا کر غائب کر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ریاستی ادارے بنیادی آئینی تحفظات اور عالمی انسانی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
کمیٹی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں خواتین اور معصوم بچوں کی جبری گمشدگیوں پر فوراً نوٹس لیں اور ان کی فوری بازیابی کو یقینی بنائیں۔
Share this content:


