پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی دھرنے کو 72 اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کو 76 روز مکمل

راولاکوٹ / کاشگل نیوز

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی طویل بندش 76 روز تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں، طلبہ، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور فری لانسرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے آن لائن کام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہو چکا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔

دوسری جانب خطے میں جاری احتجاج اور دھرنے کو بھی 72 روز مکمل ہو گئے ہیں۔ احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ وہ شدید گرمی، بارش، دھوپ اور سردی کے باوجود اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

احتجاجی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران فورسز کی فائرنگ سے تقریباً ایک سو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے متعدد افراد مختلف نجی میڈیکل کیمپوں اور مراکز میں زیرِ علاج ہیں۔

مظاہرین کا مزید کہنا ہے کہ زخمیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث انہیں نجی طبی مراکز کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔

دھرنے کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروس فوری بحال کی جائے، احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور زخمیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں بلاامتیاز علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

حکومتی مؤقف اور مذکورہ جانی و مالی نقصانات کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق اس خبر کی تیاری کے وقت ممکن نہیں ہو سکی۔

Share this content: