انسداد دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ، ایف 10 احتجاج کیس میں پولیس کو مزید وقت دینے کی استدعا مسترد

اسلام آباد / کاشگل نیوز

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ایف 10 میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف درج مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے گرفتار افراد کی شناخت پریڈ کے لیے مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ 95 گرفتار شدگان کی شناخت پریڈ مکمل کر کے انہیں آج 20 اگست کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

آج ڈیوٹی جج سپیشل کورٹ اے ٹی سی ون، واجد علی کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزمان کی جانب سے انصار محمود کیانی ایڈووکیٹ، سردار مصروف ایڈووکیٹ، آمنہ علی، مرتضیٰ توری، زاہد بشیر ڈار، کومل جادون، بیرسٹر سردار دانش ریاض سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے جبکہ سرکار کی جانب سے راجہ نوید حسین ایس پی پی پیش ہوئے۔

پولیس کی جانب سے علی اکبر ایچ سی 732 عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست دی کہ 95 افراد کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل لاک اپ بھجوایا گیا تھا، جن میں سے 30 افراد کی شناخت پریڈ مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی کی تاحال باقی ہے، اس لیے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع دی جائے۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم مورخہ 20.08.2026 میں قرار دیا کہ نہ تو کسی ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کیس کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔ عدالت نے پولیس کو ملزمان پیش کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم عدالت کا وقت ختم ہونے یعنی سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ تک کوئی بھی ملزم پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ "ہاتھ میں موجود درخواست پر غور کرنے کے لیے عدالت کے سامنے کچھ بھی موجود نہیں، ویسے بھی ریمانڈ کے لیے ملزم کا عدالت میں موجود ہونا لازمی ہے۔ اس لیے تمام ملزمان کی عدم موجودگی اور کیس ریکارڈ کی عدم موجودگی میں درخواست کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔”

عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ یہ آرڈر اور درخواست پولیس فائل اور جوڈیشل ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے۔

عدالتی حکم کے بعد گرفتار 95 افراد کی مزید حراست غیر قانونی تصور کی جا رہی ہے اور انہیں کسی بھی وقت رہا کیے جانے کا امکان ہے۔

Share this content: