تمہیں باپ جیسا شعور کا سرطان نہ ہو: قید شاعر احمد فرہاد کا بیٹے کی سالگرہ پر دردناک پیغام

پاکستان زیر انتظام کشمیر کی سٹی باغ جیل میں قید معروف شاعر اور صحافی احمد فرہاد نے اپنے بیٹے کی سالگرہ کے موقع پر ایک جذبات سے بھرپور اور دردناک خط تحریر کیا ہے۔ خط میں انہوں نے مسلسل جدائی، قید و بند کی صعوبتوں اور اپنے انتخاب سے بچوں کی زندگی پر پڑنے والے اثرات پر گہرے دکھ اور ندامت کا اظہار کیا ہے۔

احمد فرہاد نے لکھا کہ یہ مسلسل تیسرا موقع ہے جب وہ اپنے بیٹے کی سالگرہ پر اس کے پاس موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے بچے سے معذرت کی کہ وہ ایک بار اغوا اور دو بار قید ہو کر اس کی معصوم عمر میں جدائی کی بھاری سل رکھ چکے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے آسائشیں، جائیداد اور پیسہ بنانے کے بجائے نوکریاں چھوڑ کر اور دشمنیاں مول لے کر ان کی قسمت میں تنگ دستی اور ہجر لکھ بیٹھے ہیں۔

شاعر کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ بچوں کے شناختی کارڈ سے اپنا نام مٹا دیتے، کیونکہ ان کا نام اور پرچھائیں عمر بھر ان کے بچوں کے راستے میں مشکلات اور کانٹے بچھاتی رہے گی۔

انہوں نے لکھا کہ وہ ضمیر سے زیادہ جاگے ہوئے شخص کے طور پر کبھی عام آدمی کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ خط کے اختتام پر انہوں نے بیٹے کے لیے دعا کی کہ وہ ایک عام انسان کی زندگی گزارے اور اسے کبھی اپنے باپ کی طرح "شعور کا سرطان” نہ ہو۔

احمد فرہاد نے خط کے آخر میں خود کو "شہرِ ناقدراں کا بے افلاک ستارہ” اور "تمہارا برا باپ” لکھتے ہوئے تھانہ سٹی باغ، آزاد کشمیر سے یہ پیغام اپنے بیٹے کے نام بھیجا ہے۔

Share this content: