بندوق کی نوک پر چھینی گئی زندگیاں،کشمیری متاثرین کی داستانیں
اسٹوری: فرحان طارق
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے سراپا احتجاج نہتے شہریوں کی عوامی تحریک جاری ہے۔ حقوق کے اس مطالبے کے جواب میں ریاست بھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، اشیائے خوردونوش و ادویات کی شدید قلت، کریک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی دھرنے قائم ہیں۔
اس عوامی تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے سینکڑوں شہری ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اور بے شمار افراد جبری طور پر لاپتہ يا گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان کے خاندانوں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔
کاشگل نیوز پرتشدد کارروائیوں کا شکار ہونے والے ان نہتے شہریوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کی سچی داستانیں، ویڈیو اور تحریری سیریز کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والےجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 27 اور 28 جولائی کو ہونے والے لانگ مارچ کے دوران چھوٹا گلہ مہرہ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ کاشف یعقوب بھی پاکستانی فورسزز کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے۔
کاشف یعقوب کے بھائی یاسر یعقوب نے بتایا کہ کاشف پیشہ کے اعتبار سے ایک تاجر تھے جن کی راولاکوٹ میں کاسمیٹکس کی دکان تھی وہ روز اول سے اس تحریک کے ساتھ منسلک تھے۔
27 جولائی گالیات راولاکوٹ کے مقام پر شام ساڑھے چھ بجے کاشف شہید ہو گیا۔ کاشف کی وفات کے 23 دن بعد ان کے والد ہاٹ اٹیک سے انتقال کر گے۔ وہ کاشف کا غم برداشت نہ کر سکے۔
پاکستانی میڈہا کہتاہے کہ ہم دہشگردہیں ، ہمارے پاس سفید پرچم تھے، ہم کون سے دہشتگرد ہیں، ہمارے پاس سفید جھنڈوں کے علاوہ کچھ نہیں۔
کاشف یعقوب کے دوست نے بتایا کہ کاشف میرے بڑے بھائی کی طرح تھا جب میت سے چادر ہٹا کر دیکھا تو وہ جذبات نا قابل بیان تھے۔
نوٹ: اس اسٹوری کی ویژول نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں:
https://www.facebook.com/reel/27849659511343083
Share this content:


