گلگت/ کاشگل نیوز
انسپکٹرجنرل آف پولیس گلگت بلتستان، ڈاکٹر اکبر ناصر خاں (پی ایس پی) سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وفد نے سینٹرل پولیس آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ، خواتین میں خودکشی کے واقعات، پولیس کے کنوکشن ریٹ، سائبر کرائم و ڈیجیٹل فراڈ، سیف سٹی منصوبوں، خواتین پولیس کی نمائندگی، صنفی بنیاد پر تشدد، خواتین و بچوں کے تحفظ اور آنر کلنگ سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انسپکٹر جنرل اف پولیس نےخودکشی کے واقعات کی رپورٹنگ، شواہد کے تحفظ اور فرانزک سہولیات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں پولیس کی محدود رسائی اور بعض واقعات کو خاندانی و معاشرتی سطح پر چھپانے کے باعث اصل اعداد و شمار سامنے نہیں آ پاتے۔
سائبر کرائم کے حوالے سے بتایا گیا کہ آن لائن فراڈ اور اسکمنگ کے متعدد معاملات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے دائرہ کار میں آتے ہیں، تاہم گلگت بلتستان پولیس میں سائبر کرائم یونٹ کے قیام اور پولیس کو مزید بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔
وفد کو سیف سٹی گلگت اور سکردو منصوبوں جبکہ سیف سٹی ہنزہ کے مجوزہ منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ خواتین پولیس کی نمائندگی بڑھانے کے لیے حالیہ سی ٹی یو بھرتیوں میں 10 فیصد کوٹہ مختص کرنے سمیت مختلف اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
خواتین و بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئی جی پولیس نے بتایا کہ وومن پولیس اسٹیشن میں آغوش سینٹر قائم ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں فیسلیٹیشن ویمن سینٹرز کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین و بچوں سے ہراسانی، تشدد اور چائلڈ مولیسٹیشن کے خلاف پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔
ملاقات میں انسانی حقوق کے تحفظ، خواتین و بچوں کے مسائل کے حل اور جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے پولیس، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
Share this content:


