خواجہ زرغام: ماں کی آنکھوں کا تارہ ،سب سے چھوٹا بیٹا

بندوق کی نوک پر چھینی گئی زندگیاں،کشمیری متاثرین کی داستانیں

اسٹوری: فرحان طارق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے سراپا احتجاج نہتے شہریوں کی عوامی تحریک جاری ہے۔ حقوق کے اس مطالبے کے جواب میں ریاست بھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، اشیائے خوردونوش و ادویات کی شدید قلت، کریک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی دھرنے قائم ہیں۔

اس عوامی تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے سینکڑوں شہری ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اور بے شمار افراد جبری طور پر لاپتہ يا گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان کے خاندانوں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔

کاشگل نیوز پرتشدد کارروائیوں کا شکار ہونے والے ان نہتے شہریوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کی سچی داستانیں، ویڈیو اور تحریری سیریز کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ کے علاقے دریک سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ خواجہ زرغام جو جامعہ پونچھ میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالب علم تھے۔

حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 27 جولائی لانگ مارچ کے دوران خواجہ زرغام ہلاک ہو گئے۔

زرغام کی والدہ بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ اس روز وہ زخمیوں کی عیادت کے لیے دریک میں قائم میڈیکل کیمپ گئی تھیں۔

ان کے مطابق گھر واپس پہنچنے پر اعلانات شروع ہو گئے کہ جن گھروں میں سفید چادریں یا پٹیاں موجود ہیں، وہ کیمپ پہنچائی جائیں۔

وہ چادریں اور پٹیاں لے کر دوبارہ کیمپ کی طرف جا رہی تھیں کہ راستے میں دو بچوں نے انہیں بتایا کہ زرغام شہید ہو گیا ہے۔

یہ خبر سنتے ہی وہ راستے میں بے ہوش ہو گئیں اور انہیں گھر پہنچایا گیا۔

مغرب کے وقت زرغام کی میت گھر لائی گئی۔

بیٹے کی موت کے باوجود زرغام کی والدہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ زرغام اکثر ان سے کہتا تھا:
"ماما، دعا کریں مجھے شہادت نصیب ہو، آپ لوگ ہر سال میری برسی منایا کریں۔”

زرغام کے بھائی خواجہ حسان علی کے مطابق زرغام کو گاڑیوں کا بہت شوق تھا اور گاڑیوں سے متعلق کام کرنا اس کا مشغلہ بھی تھا۔

ایک ماں کے لیے سب سے چھوٹے بیٹے کی جدائی شاید کبھی ختم نہ ہو، مگر زرغام کی والدہ کے لیے اس کی یاد اب اس کی خواہش، اس کی باتوں اور اس کی آخری نشانیوں میں زندہ ہے۔

نوٹ: اس اسٹوری کی ویژول نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں:

https://www.facebook.com/reel/1364077552557734

Share this content: