سردار اویس کی گرفتاری کو دو ماہ سے زائد، صحافیوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے صحافی سردار اویس کو حراست میں لیے جانے کے دو ماہ سے زائد گزر چکے ہیں۔ سردار اویس اس وقت دھیرکوٹ پولیس کی حراست میں ہیں اور پولیس نے انہیں ایک ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے، جس میں دہشت گردی اور قتل سمیت مختلف دفعات شامل ہیں۔

سردار اویس کو 22 جون کو ضلع باغ میں اس وقت مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا جب وہ اپنے بچوں کی اسکول میٹنگ میں شریک تھے۔

پولیس کے مطابق سردار اویس پر گزشتہ برس جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران دھیرکوٹ کے علاقے چمیاٹی میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان واقعات میں متعدد مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ سردار اویس اس وقت چمیاٹی میں بطور صحافی رپورٹنگ کر رہے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سردار اویس کو اب تک دو مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔

ان سے ملاقات کرنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سردار اویس کی موجودہ حالت ٹھیک ہے۔ ان کے مطابق گرفتاری کے ابتدائی دنوں میں مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا گیا، تاہم اب انہیں کسی تشدد کا سامنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سردار اویس جس لاک اَپ میں ہیں وہاں درجنوں دیگر زیرِ حراست افراد بھی موجود ہیں، جن میں بزرگ افراد بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کے ساتھ صحافیوں اور اطلاعات تک رسائی کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں مقیم راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے صحافی دانش ارشاد کا نام بھی فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ اور چھ جون کی درمیانی شب سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے باعث نہ صرف عوامی رابطے متاثر ہوئے ہیں بلکہ آزادانہ اور بروقت معلومات تک رسائی بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

ایسے میں سردار اویس کی طویل حراست اور صحافیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں نے خطے میں آزادیٔ صحافت، معلومات تک رسائی اور شہری آزادیوں کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Share this content: