غم سے نڈھال باپ، جسے رات نو بجے بیٹے کی موت کا پتا چلا

بندوق کی نوک پر چھینی گئی زندگیاں،کشمیری متاثرین کی داستانیں

اسٹوری: فرحان طارق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے سراپا احتجاج نہتے شہریوں کی عوامی تحریک جاری ہے۔ حقوق کے اس مطالبے کے جواب میں ریاست بھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، اشیائے خوردونوش و ادویات کی شدید قلت، کریک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی دھرنے قائم ہیں۔

اس عوامی تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے سینکڑوں شہری ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اور بے شمار افراد جبری طور پر لاپتہ يا گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان کے خاندانوں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔

کاشگل نیوز پرتشدد کارروائیوں کا شکار ہونے والے ان نہتے شہریوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کی سچی داستانیں، ویڈیو اور تحریری سیریز کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غم سے نڈھال ڈھوک دریک راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے گل محمد خان نے بتایا کہ ان کا 23 سالہ بیٹا عثمان، 27 جولائی کو حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران چنار چوک میں ہلاک ہوا۔

گل محمد خان کے مطابق انہوں نے محنت مزدوری کرکے اپنے بیٹوں کی پرورش کی۔ عثمان بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھا اور ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 جولائی کو عثمان سہ پہر تقریباً 3 بجے دھرنے میں شرکت کے لیے گیا۔ شام 7 بجے اطلاع ملی کہ عثمان زخمی ہوگیا ہے اور اسے کوٹلی لے جایا جا رہا ہے۔ عثمان روزانہ دھرنے میں نہیں جاتا تھا بلکہ جب اعلان ہوتا تب جاتا تھا ۔

غم سے نڈھال والد کے مطابق انہیں اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا دم توڑ چکا ہے۔ رات تقریباً 9 بجے جب عثمان کی میت گھر پہنچی تو انہیں حقیقت کا علم ہوا۔

ایک محنت کش باپ کا 23 سالہ بیٹا، دھرنے میں گیا تو زندہ تھا، مگر چند گھنٹوں بعد اس کی میت گھر واپس آئی۔

Share this content: