اسٹوری : فرحان طارق
بندوق کی نوک پر چھینی گئی زندگیاں،کشمیری متاثرین کی داستانیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے سراپا احتجاج نہتے شہریوں کی عوامی تحریک جاری ہے۔ حقوق کے اس مطالبے کے جواب میں ریاست بھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، اشیائے خوردونوش و ادویات کی شدید قلت، کریک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی دھرنے قائم ہیں۔
اس عوامی تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے سینکڑوں شہری ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اور بے شمار افراد جبری طور پر لاپتہ يا گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان کے خاندانوں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔
کاشگل نیوز پرتشدد کارروائیوں کا شکار ہونے والے ان نہتے شہریوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کی سچی داستانیں، ویڈیو اور تحریری سیریز کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راولاکوٹ کے ڈھوک دریک سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ حسام بنارس 27 جولائی کوا سنائپر کی گولی لگنے سے ہلاک ہوئے، جبکہ اہلِ خانہ کے مطابق ان کی میت 28 جولائی کو گھر پہنچی۔ حسام راولپنڈی میں سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے تھے اور عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں پر گھر آئے ہوئے تھے۔
حسام کی والدہ خدیجہ بی بی بتاتی ہیں کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد گھر والے انہیں واپس راولپنڈی جانے کا کہتے رہے، مگر حسام کا کہنا تھا کہ "یہ ہم سب کی تحریک ہے، یہاں آنے والے لوگوں کو کھانے اور پانی کی ضرورت ہے، ہم انہیں تنہا کیسے چھوڑ دیں؟”
27 جولائی کو حسام گھر سے دھرنے میں شرکت کے لیے نکلے، لیکن اگلے روز ان کی میت گھر واپس آئی۔
حسام کے والد بنارس خان سوال کرتے ہیں: "وہ تو مظاہرین کو پانی پلاتا تھا، کون سا دہشت گرد تھا وہ؟ ہر انسان کو جینے کا حق حاصل ہے، کشمیر میں کوئی دہشت گرد نہیں۔”
Share this content:


