فہیم افضل: ’’غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے‘‘

اسٹوری : فرحان طارق

بندوق کی نوک پر چھینی گئی زندگیاں،کشمیری متاثرین کی داستانیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے سراپا احتجاج نہتے شہریوں کی عوامی تحریک جاری ہے۔ حقوق کے اس مطالبے کے جواب میں ریاست بھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، اشیائے خوردونوش و ادویات کی شدید قلت، کریک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی دھرنے قائم ہیں۔

اس عوامی تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے سینکڑوں شہری ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اور بے شمار افراد جبری طور پر لاپتہ يا گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان کے خاندانوں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔

کاشگل نیوز پرتشدد کارروائیوں کا شکار ہونے والے ان نہتے شہریوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کی سچی داستانیں، ویڈیو اور تحریری سیریز کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فہیم افضل: ’’غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے‘‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے نواحی علاقے دھن چھوٹا گلہ سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ فہیم افضل 27 جولائی کو جے کے جے اے سی کے لانگ مارچ کے دوران پاکستانی فورسز کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔

فہیم اپنے گھر کے واحد کفیل اور چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔

فہیم کی والدہ حمیدہ بی بی کہتی ہیں کہ فہیم دن کے وقت دھرنے میں جاتا تھا۔ وہ بھی دھرنے میں موجود تھیں کہ کسی نے آکر بتایا کہ فہیم کے ٹخنے میں گولی لگی ہے۔

حمیدہ بی بی کہتی ہیں کہ وہ میڈیکل کیمپ کی طرف جا رہی تھیں، مگر راستے میں لوگوں کو فہیم کی میت اٹھائے اپنی طرف آتے دیکھا۔

فہیم اپنی والدہ سے کہا کرتا تھا:

’’غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے۔‘‘

غم سے نڈھال والدہ کہتی ہیں کہ ہماری پاکستانی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے لکھ کر دیا، پھر بھی ہمارے بچے مارے گئے۔

فہیم کی موت سے ایک ماں کا بیٹا،
چار بہنوں کا اکلوتا بھائی
اور ایک گھر کا واحد کفیل ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔

٭٭٭

Share this content: