اسامہ جمیل: سفید پرچم تھامے پی ایچ ڈی طالب علم کی آخری جدوجہد

اسٹوری : فرحان طارق

بندوق کی نوک پر چھینی گئی زندگیاں،کشمیری متاثرین کی داستانیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے سراپا احتجاج نہتے شہریوں کی عوامی تحریک جاری ہے۔ حقوق کے اس مطالبے کے جواب میں ریاست بھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، اشیائے خوردونوش و ادویات کی شدید قلت، کریک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی دھرنے قائم ہیں۔

اس عوامی تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے سینکڑوں شہری ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اور بے شمار افراد جبری طور پر لاپتہ يا گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان کے خاندانوں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔

کاشگل نیوز پرتشدد کارروائیوں کا شکار ہونے والے ان نہتے شہریوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کی سچی داستانیں، ویڈیو اور تحریری سیریز کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسامہ جمیل: سفید پرچم تھامے پی ایچ ڈی طالب علم کی آخری جدوجہد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 27 اور 28 جولائی کے لانگ مارچ کے دوران فورسز کی مبینہ فائرنگ سے متعدد مظاہرین ہلاک ہوئے۔ ان میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پی ایچ ڈی طالب علم اسامہ جمیل بھی شامل تھے۔

اسامہ جمیل شعبۂ جیالوجی میں پی ایچ ڈی کے تیسرے سمسٹر میں زیرِ تعلیم تھے۔ لانگ مارچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل وہ اسلام آباد سے اپنے آبائی گاؤں واپس آئے تھے۔

اسامہ کے بھائی توصیف جمیل کے مطابق، اسامہ نے جامعہ پونچھ سے جیالوجی میں گریجویشن کی، جس کے بعد قائداعظم یونیورسٹی سے ایم فل مکمل کیا اور وہیں پی ایچ ڈی کی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے۔

توصیف جمیل بتاتے ہیں کہ 28 جولائی کو لانگ مارچ کے دوران مغرب کے وقت فورسز کی جانب سے مظاہرین پر مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی۔ ان کے مطابق اسامہ کے ہاتھ میں سفید پرچم تھا اور وہ زخمی ہونے والے مظاہرین کو ریسکیو کر رہے تھے۔

اسی دوران ایک گولی اسامہ کے سر میں لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

اسامہ کے دوست بابر اشفاق انہیں ایک بے خوف انسان قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پانچ جون سے شروع ہونے والے احتجاج میں وہ اور ان کے دوست پہلے دن سے اسامہ کے ساتھ موجود تھے۔

بابر اشفاق کہتے ہیں کہ آج اسامہ ان کے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کے نعروں کی گونج آج بھی دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔

ایک نوجوان محقق، ایک دوست اور ایک بے خوف مظاہرہ اسامہ جمیل کا سفر سفید پرچم تھامے ختم ہوا، مگر ان کی آواز اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گئی۔

٭٭٭

Share this content: