ووٹ کو عزت دو سے بوٹ کو عزت دو تک ، اقتدار کا مختصر مگر معنی خیز سفر

کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی حالیہ سیاست نے ایک ایسا منظرنامہ پیش کیا ہے جس نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی "ووٹ کو عزت دو” کے پرانے سیاسی بیانیے کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

کبھی ووٹ کی حرمت، عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اختیار کی بات کرنے والی سیاست آج ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں سوال یہ نہیں کہ ووٹ کس کا تھا، بلکہ فیصلہ کس کا تھا؟

حالیہ سیاسی واقعات کو دیکھتے ہوئے ناقدین طنزیہ طور پر اسے "ووٹ کو عزت دو سے بوٹ کو عزت دو تک کا مختصر سفر” قرار دے رہے ہیں۔

100 سے زائد نعشوں کا بوجھ؟

انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی اور فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں عوامی حقوق کی تحریک نے شدت اختیار کی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج اور لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا۔

حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان عوامی مطالبات پر وعدے اور یقین دہانیاں ہوئیں، مگر تحریک کے مطابق مقررہ وقت گزرنے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔

بعد ازاں احتجاج کی کال، کشیدگی، طاقت کے استعمال اور مختلف واقعات نے پورے خطے کو ایک بڑے سیاسی بحران سے دوچار کردیا۔

تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں نے عوامی غصے کو مزید بڑھایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فیصل ممتاز راٹھور 100 سے زائد نعشوں کے مختصر اقتدار کا بوجھ اٹھائے، اپنی مدت پوری ہوتے ہی بیرسٹر افتخار گیلانی سے ہاتھ ملاتے ہوئے ایوان سے رخصت ہوگئے۔

یہ ایک سیاسی جملہ ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے ایک انتہائی سنجیدہ سوال موجود ہے:

جن جانوں کا نقصان ہوا، ان کا ذمہ دار کون ہے؟ اور ان واقعات کا سیاسی و اخلاقی حساب کون دے گا؟

انتخابات اور عوامی غصہ

انتخابات کا مرحلہ شروع ہوا تو مسلم لیگ (ن) نے ایک مرتبہ پھر عوامی مینڈیٹ، ووٹ اور جمہوری اختیار کا بیانیہ اختیار کیا۔

مگر انتخابی مہم کے دوران کئی مقامات پر اسے عوامی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ نوجوانوں اور شہریوں کی جانب سے سوال اٹھائے گئے کہ جب عوامی حقوق کی تحریک کے دوران طاقت استعمال کی جارہی تھی تو سیاسی جماعتوں کا کردار کیا تھا؟

کہیں بائیکاٹ کی آوازیں بلند ہوئیں اور کہیں سیاسی کارکنوں نے روایتی انتخابی سیاست سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

اس کے باوجود انتخابی عمل آگے بڑھا اور بالآخر حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوا۔

وزیراعظم کون؟ عوامی نمائندہ یا سیاسی بندوبست؟

حکومت سازی کے بعد سب سے بڑا سوال وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کا تھا۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام سامنے آیا۔ عام انتخابات میں عوام سے براہِ راست وزارتِ عظمیٰ کا مینڈیٹ حاصل نہ کرنے کے باوجود ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں پہنچنے کے بعد انہیں وزیراعظم منتخب کرلیا گیا۔

یہاں سے سیاسی سوال مزید گہرا ہوگیا۔

کیا وزارتِ عظمیٰ کا منصب صرف عددی اکثریت سے طے ہونا چاہیے یا اس کے ساتھ عوامی مینڈیٹ، سیاسی جدوجہد اور کارکنوں کی قربانیوں کا بھی کوئی وزن ہونا چاہیے؟

پہلی تقریر اور پونچھ، سدھنوتی کی خاموشی

نئے ٹیکنوکریٹ وزیراعظم کی پہلی تقریر بھی کئی سوالات چھوڑ گئی۔

پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع میں امن و امان کی صورتحال اور حالیہ سیاسی کشیدگی خطے کا ایک اہم مسئلہ ہے، مگر وزیراعظم کی پہلی تقریر میں ان دونوں اضلاع کے امن و امان کا ذکر تک نہ ہونا سیاسی حلقوں کے لیے حیران کن رہا۔

کیا یہ محض اتفاق تھا؟

یا پھر امن و امان کا اختیار بھی ابھی وزیراعظم کی دسترس سے دور ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر ایک وزیراعظم اپنے خطے کے حساس ترین سیاسی اور انتظامی بحران پر کھل کر بات نہ کرسکے تو پھر عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اصل اختیار کہاں ہے؟

"افتخار گیلانی ن لیگ کے نہیں”

سیاسی حلقوں میں ایک اور تاثر بھی گردش کر رہا ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی مسلم لیگ (ن) کے روایتی سیاسی کارکن یا تنظیمی امیدوار نہیں بلکہ کسی اور طاقت کے منتخب کردہ نمائندے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ تاثر درست ہے یا محض سیاسی مخالفین کا بیانیہ، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔لیکن اگر یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا تو مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود ان کارکنوں کے لیے بھی یہ ایک بڑا سوال ہوگا جو برسوں سے پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، انتخابات لڑے، جیلیں کاٹیں، جلسے کیے اور سیاسی مشکلات برداشت کیں۔

آج اگر ان سب کو بائی پاس کرکے ایک ایسے شخص کو وزارتِ عظمیٰ مل جائے جسے پارٹی کے اندرونی انتخابی عمل سے نہیں بلکہ کسی اور سیاسی بندوبست کے ذریعے آگے لایا گیا ہو، تو پھر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ خود اپنے اندر سوال بن جاتا ہے۔

پروٹوکول ان کا، فیصلے کسی اور کے؟

اس وقت ایک طنزیہ سیاسی جملہ تیزی سے گردش کر سکتا ہے:

"پروٹوکول ان کا، فیصلے کسی اور کے۔”

وزیراعظم کے گرد ن لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کا ہجوم، تصویریں، مصافحے اور ساتھ ساتھ چلنے کے مناظر وقتی طور پر طاقت کی علامت دکھائی دے سکتے ہیں۔لیکن سیاست میں اصل امتحان تصویروں کا نہیں، اختیار کا ہوتا ہے۔

آج جو رہنما اور کارکن نئے وزیراعظم کے ساتھ چپک چپک کر تصاویر بنوا رہے ہیں، ممکن ہے آنے والے دنوں میں ان میں سے بہت سے لوگ وزیراعظم کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے بجائے صرف دور کھڑے تماشائی بن کر تالیاں بجاتے دکھائی دیں۔

کیونکہ اگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہوں تو اقتدار کے ایوان میں موجود ہونا اور اقتدار کا حقیقی اختیار رکھنا، دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔

جمہوریت کا اصل امتحان

کسی شخص کو آئینی طریقہ کار کے ذریعے وزیراعظم منتخب کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں ووٹ بھی پورے کیے جاسکتے ہیں اور حکومت بھی تشکیل دی جاسکتی ہے۔مگر جمہوریت صرف نمبروں کا کھیل نہیں۔

جمہوریت عوامی اعتماد، سیاسی مینڈیٹ، کارکنوں کی رائے، اختلافِ رائے کے احترام اور فیصلوں میں خودمختاری کا نام بھی ہے۔

اگر عوام کے ووٹ سے زیادہ اہمیت کسی اور جگہ ہونے والے فیصلے کو حاصل ہوجائے تو پھر سوال صرف ایک وزیراعظم کا نہیں رہتا، پورے جمہوری نظام کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔

تاریخ فیصلہ کرے گی

فیصل ممتاز راٹھور کا دور ختم ہوگیا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی نے اقتدار سنبھال لیا۔ ایوان میں چہرے بدل گئے، پروٹوکول بدل گیا، مگر عوام کے سوال وہی ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا کیا ہوگا؟

پونچھ اور سدھنوتی میں امن کیسے قائم ہوگا؟

حالیہ واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کا حساب کون دے گا؟

اور سب سے بڑھ کر:

کیا نئی حکومت واقعی اپنے فیصلے خود کرے گی؟

اگر کرے گی تو عوامی حقوق کی تحریک کے بارے میں اس کا عملی موقف کیا ہوگا؟

اور اگر فیصلے کہیں اور سے ہوں گے تو پھر وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا شخص محض وزیراعظم ہوگا یا اختیار کا اصل مرکز بھی؟

آج سوال بیرسٹر افتخار گیلانی کی ذات کا نہیں۔

سوال اس نظام کا ہے۔

جس سیاست نے کبھی "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا تھا، اگر وہ عوامی مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈال کر طاقت کے فیصلوں کے سامنے سر جھکا دے تو تاریخ شاید اس سفر کو ایک ہی جملے میں یاد رکھے:

"ووٹ کو عزت دو سے بوٹ کو عزت دو تک کا مختصر سفر۔”

اور اس سفر میں سب سے بڑا سوال یہی رہے گا:

عوام کہاں کھڑے ہیں، اور اصل اختیار کس کے پاس ہے؟

٭٭٭

Share this content: