وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں مزید صوبے بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔‘
پیر کو صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’لاہور کے تاجر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ سندھ کو تقسیم ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ سندھ اسمبلی کے ارکان متعدد بار کر چکے ہیں کہ سندھ کے حصے نہیں ہوں گے، سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔‘
سندھ کے وزیر اعلیٰ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث چل رہی ہے۔
مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے کا ’ہم فیصلہ کریں گے، نہ کوئی عدالت فیصلہ کرے گی اور نہ ہی سڑکوں پر نکلا ہوا کوئی شخص یہ فیصلہ کرے گا۔‘
’فیصلہ اس ایوان میں ہوگا، بحث اس ایوان میں ہوگی۔ فیصلہ یہ ایوان کرے گا اور انشا اللہ ایسا فیصلہ کرے گا کہ جو باقی آوازیں چل رہی ہیں، ان سب کے منھ ہم بند کریں گے۔‘
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں پر بحث جاری ہے جو اگلے چند روز تک جاری رہے گی ، جس کے بعد حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے قرار دادا پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک پانچ قرار دادیں منطور کرچکی ہے۔
پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی جانب سے جمع کروائی گئی اور محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔
یہ قرارداد اکثریتِ رائے سے منظور ہوئی، لیکن بعد میں کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔
دوسری قرارداد چھ مارچ 1954 کو اپوزیشن لیڈر اور قوم پرست رہنما جی ایم سید نے پیش کی۔ قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ کراچی شہر اور اس سے منسلک وفاقی علاقہ دوبارہ سندھ میں شامل کیا جائے۔
قرارداد میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی وجوہات ناکافی تھیں اور اس فیصلے کے نتیجے میں سندھ حکومت کو دارالحکومت اور آمدنی کے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی نہیں کیا گیا۔
تیسری قرارداد 25 ستمبر 2014 کو کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر محمد شہریار خان مہر نے پیش کی تھی اور ایوان نے اکثریتِ رائے سے اسے منظور کیا۔
چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اسمبلی ارکان نے دستخط کیے تھے، اس قرارداد کے ذریعے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا گیا تھا۔
پانچویں قرارداد 21 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی نے منظور کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں کراچی کو سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
Share this content:


