اظہر رشید کی موت کا زمہ دار کون۔ تحریر: الیاس کشمیری

0
147

گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر اپنی سانسوں کا اختتام کرنے والے فرد کا کوئی نہ کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے۔لیکن پسماندہ سماجوں میں کچھ قتل ایسے ہوتے ہیں جن کے قاتل کی نہ ہی نشاندہی کی جاتی ہے اور نہ ہی قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور نہ ہی قتل کا مقدمہ چلتا ہے،بلکہ مقتول کو جنت میں اعلی مقام احاطہ کرنے کی دعاؤں اور اسے اچھا انسان کہنے کے الفاظ کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے اور چند دنوں بعد لوگ اس قتل کو بھول جاتے ہیں۔ اظہر رشید کے قتل پر بھی یہی ہو رہا ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ایسے قتل کے قاتل حکمران ہوتے ہیں اور ریاست ہوتی ہے۔ کوئی اچھا ہو یا برا اعلی ہو یا ادنیٰ اگر وہ طبعی موت نہیں مرتا تو اس کی موت کا کوئی نہ کوئی زمہ دار ضرور ہوتا ہے۔ ایسی اموات جن کا شکار اظہر جیسے نوجوان ہوتے ہیں ان کی موت کے زمہ دار کا تعین نہیں کیا جاتا کیوں؟ اس لیے کے ایسی موت کی زمہ دار ریاست اور اقتدار پر براجمان حکمران ہوتے ہیں۔ان کے خلاف مقدمہ درج ہونا تو دور کی بات ہے ایسی موت کے زمہ دار کا تعین کرنے کا سوال بھی نہیں اٹھتا، بس دعاؤں پر گزارا کر لیا جاتا ہے ۔

ایک گولڈ میڈلسٹ اور این ٹی ایس کا ٹاپر جب کچہریوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوتا ہے تو پھر اس کی موت کے زمہ دار یعنی قاتل کے تعین میں کیا دشواری پیش آتی ہے؟ عوام دشمن حکمرانوں کا عوام دشمن قاتل نظام جو رشوت، چور بازاری، قبیلائی اور نسلی تعصبات پر کھڑا ہے ۔ ایسا بوسیدہ نظام جس میں باعزت روزگار کے لیے اس قبیلے کا ہونا اور ساتھ میں دولت مند ہونا بھی لازم ہے جس قبیلے کے وزراء اسمبلی میں بیٹھے ہوں، ان کی موجودگی میں کوئی گولڈ میڈلسٹ ہو یا این ٹی ایس کا ٹاپر ہو دھکے کھائے گا اور بے توقیر ہو گا۔ کوئی سوال نہیں اٹھتا، راجہ،ملدیال،سدھن،عباسی، گجر،جاٹ، ایسے جاہلانہ تعصبات ہمارے سماج کو دیمک کی طرح چاٹنے چاٹتے اس مقام تک لے آئے ہیں کہ اب اظہر جیسے با صلاحیت نوجوان کے قتل پر اس کے قتل کے زمہ دار کے تعین کا سوال اٹھانے کے بجائے محض دعاؤں پر اطمینان کر لیا جاتا ہے اور 14ویں اور 40ویں کی تیاریاں رچائی جاتی ہیں ۔

ہمارا سوال یہ ہر گز نہیں ہے کہ اظہر کتنا پڑھا لکھا تھا بیشک کوئی غیر تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو وہ اپنی زندگی کے خاتمے پر مجبور ہوتا ہے تو پھر وہ ریاست اور اس کے حکمران زمہ دار اور قاتل ہوتے ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں درجنوں قسم کے ٹیکس دے رہا ہوتا ہے اس لیے کہ اسے ژندہ رہنے کے باعزت مواقع فراہم کیے جائیں۔ لیکن ہوتا اس کے الٹ ہے ریاست سب سے پہلے نسلی اور قبیلائی تعصبات کی بنیادوں پر میرٹ اور صلاحیتوں کا قتل کرتی ہے باعزت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر روزگار دینے کے بجائے لمہہ بہ لمہہ تزلیل کرتی ہے اور بے توقیری کا شکار کرتی ہے۔اس تزلیل اور بے توقیری کا شکار ہونے والے نوجوان ان مسائل کی اجتماعیت کو بنیاد بنا کر منظم ہونے اور لڑائی کے لیے تنظیم کی تعمیر کے بجائے اپنی زندگیوں کو ختم کرنے کی ٹھان لیتے ہیں جیسا اظہر نے کیا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کے ایسے عمل سے گماشتہ حکمرانوں اور ریاست کو کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ استحصال اور جبر کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اور ان نوجوانوں کی موت کی زمہ داری پر کوئی سوال نہیں اٹھتا ہے ۔ایک بار اگر ایسی موت کے قاتل کا تعین کرتے ہوئے اس حلقہ کے ایم این اے کے خلاف مقدمہ درج ہو اور قتل کے مقدمے کا ٹرائل ہو تو پھر اظہر رشید جیسے قتل کے زمہ دار کا تعین ایک اصول بن جاے گا کہ ایسی تمام اموات کا زمہ دار حکمران طبقہ ہے اور طبی موت کے علاؤہ جو بھی موت واقع ہو گی اس کا مقدمہ اس حلقے کے ایم ایل اے کے خلاف درج ہو گا کیونکہ پہلا زمہ دار وہ ہے اس کے بعد حکمران طبقہ اور ریاست ہے۔ تو پھر ایسی اموات کی روک تھام ممکن ہے ورنہ فیسٹریشن کے شکار اس معاشرے میں ایسی اموات میں اضافہ ہوتا جاے گا اور ہم دعاؤں کا سہارا لیتے ہوئے جوان کاشت کندھوں پر اٹھا تے رہیں گے

آئیں مل کر ایسی اموات کے زمہ دار کے تعین پر سوال اٹھائیں یہ ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here