بلوچستان میں پاکستانی فوج پر بی ایل اے کا بڑا حملہ ،23 اہلکار ہلاک

بلوچستان میں پاکستانی فوج کے قافلے پر ایک مہلک حملے کی اطلاعات ہیں جس سے 23 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔جبکہ واقعہ کی ذمہ بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے ) نے قبول کرتے ہوئے دعویٰ کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی فتح اسکواڈ نے آج صبح لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں پاکستانی فوج کے قافلے کو ایک مہلک حملے میں نشانہ بنایا جس میں فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج پر حملہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں قومی شاہراہ پر اس وقت ہوا جب وہ قافلے کی شکل میں جارہے تھے ،حملہ انتہائی مہلک تھا جس کے نتیجے میں فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق شاہراہ سے گزرنے والے فوج کے قافلے پر مسلح افراد نے اچانک اور شدید حملہ کیا۔ واقعے میں قافلے میں شامل دو عسکری گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ مزید دو گاڑیاں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی زد میں آئیں۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں 23 سے زائد عسکری اہلکاروں کی ہلاکت کا خدشہ ہے، جبکہ متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے فوراً بعد علاقے کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر دی ہے اور لاشوں و زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

واقعے کے کافی وقت گزر جانے کے باوجود پاکستانی حکام یا فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کی جانب سے اس بڑے حملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان یا سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کی تحریک آزادی کی متحرک وسرگرم مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے)نے بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں آج بروزہفتہ کوپاکستانی فوج کے قافلے پر ہونے والے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی فتح اسکواڈ نے آج صبح لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو ایک مہلک حملے میں نشانہ بنایا جس میں قابض فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد ہی میڈیا کو جاری کیئے جائیں گے۔

یاد رہے کہ مذکورہ حملے میں 23 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

Share this content: