بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر اور ضلع کیچ میں پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستان نیوی کے 2 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی چھین کر اپنے ساتھ لے گئے۔
ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں مسلح افراد نے حملہ کر کے پاکستان نیوی کے 2 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے نیوی اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمن (PMA-IV) اور غفران ناصر (PMT-II) کے ناموں سے ہوئی ہے۔جن کا تعلق پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر سے بتایا جاتا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے نیوی اہلکار کو ہدف بنا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیراؤ میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی مسلح تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔
دوسری جانب تمپ سے تربت آتے ہوئے خیر آباد کے قریب مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری کالے رنگ کی ‘سرف’ گاڑی کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی موومنٹ کے دوران مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا، تاہم دونوں اعلیٰ افسران خود اس گاڑی میں موجود نہیں تھے بلکہ کچھ فاصلے پر دوسری گاڑی میں سوار ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔
مسلح افراد نے گاڑی میں موجود ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ کو قابو میں لے کر سرف گاڑی اپنے ساتھ لے گئے۔
سرکاری افسران کی نقل و حرکت کے دوران خیر آباد جیسے اہم روٹ پر اس نوعیت کی کارروائی نے تمپ اور تربت کے درمیان سیکیورٹی کے تمام تر دعووں اور فورسز کی انتظامی کنٹرول پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات اور تحرک کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی مسلح تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔
Share this content:


