تین سال، ایک تحریک:جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیسے بنی اور کہاں پہنچی؟

اسٹوری: فرحان طارق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے قیام کو تین سال مکمل ہو گئے۔ یہ کمیٹی کسی ایک دن یا ایک سیاسی جماعت کے فیصلے سے وجود میں نہیں آئی، بلکہ آٹے، بجلی، ٹیکس، مراعات اور بنیادی شہری حقوق سے متعلق مختلف احتجاجی سرگرمیوں، مقامی ایکشن کمیٹیوں، تاجروں، طلبہ، سول سوسائٹی اور قوم پرست و ترقی پسند سیاسی کارکنوں کی مشترکہ جدوجہد سے اس کی بنیاد پڑی۔

یہ کہانی اگست 2022 سے شروع ہوتی ہے، جب راولاکوٹ میں قوم پرست رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوامی حقوق کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس مرحلے پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، پیپلز ریوولوشنری فرنٹ، جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی سے وابستہ رہنما اس سرگرمی میں شامل تھے۔

تاہم اس وقت کوئی مرکزی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی موجود نہیں تھی۔ تحریک مختلف مقامی ایکشن کمیٹیوں، طلبہ تنظیموں، تاجروں، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کے ذریعے آگے بڑھ رہی تھی۔

آٹے کے نرخوں سے اٹھنے والی چنگاری

9 مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں خطے میں آٹے کی قیمت میں 600 روپے فی من اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ اس فیصلے کے بعد مختلف علاقوں میں آٹا ڈپو بند کیے گئے اور موجودہ اسٹاک بھی پرانے نرخوں پر فراہم کرنے سے انکار کیا گیا۔

راولاکوٹ میں شہریوں اور تاجروں نے احتجاج شروع کیا۔ مطالبہ تھا کہ آٹا پرانے نرخوں پر فراہم کیا جائے، مگر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی جانب سے مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے پر احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا۔

اسی روز چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی اور آٹا ڈپو سپلائی بازار کے سامنے دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ احتجاج چند ہفتوں میں راولاکوٹ سے نکل کر پونچھ ڈویژن کے دیگر اضلاع اور کوٹلی تک پھیل گیا۔ 27 مئی کو راولاکوٹ، کھائی گلہ اور دیگر مقامات پر بڑے مظاہرے ہوئے۔ 31 مئی کو پونچھ ڈویژن کے چاروں اضلاع اور تحصیل سطح پر شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔

اس مرحلے پر ایک مرکزی کمیٹی نہیں تھی، مگر مختلف مقامات پر بننے والی ایکشن کمیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑتی جا رہی تھیں۔

بجلی کے بل اور سول نافرمانی

اگست 2023 میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ خطے میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور سرکاری ملازمین کو احتجاج سے دور رکھنے کے لیے ایک آرڈیننس کے اجرا نے بھی عوامی ردعمل کو مزید بڑھایا۔

23 اگست 2023 کو تحریک نے ایک اہم موڑ لیا۔

پونچھ، سدھنوتی، باغ اور کوٹلی میں ہزاروں بجلی کے بل نذر آتش کیے گئے۔ بعد ازاں میرپور میں بھی بجلی کے بل جمع کیے جانے لگے اور بلوں کی ادائیگی نہ کرنے کا اعلان سامنے آیا۔

اگست کے اختتام تک احتجاج مظفرآباد ڈویژن تک پہنچ چکا تھا۔ 31 اگست کو مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کی کال دی گئی جبکہ ستمبر کے آغاز میں پونچھ اور میرپور ڈویژن میں بھی ہڑتالیں ہوئیں۔

تحریک اب محض آٹے کی قیمت کا مسئلہ نہیں رہی تھی۔ بجلی، ٹیکس، حکمران اشرافیہ کی مراعات، ہائیڈل منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں مقامی حصہ اور دیگر بنیادی حقوق بھی اس کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔

وہ اجلاس جس نے مختلف دھاروں کو ایک پلیٹ فارم دیا

16 ستمبر 2023 کو مظفرآباد میں ایک اہم اجلاس ہوا۔

انجمن تاجران، قوم پرست جماعتوں، مقامی ایکشن کمیٹیوں اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

رات گئے تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد خطے میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اور پھر 17 ستمبر 2023 کی صبح تقریباً تین بجے، 30 ارکان پر مشتمل جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی قائم کی گئی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب مختلف علاقوں میں جاری بکھری ہوئی مزاحمت نے ایک مرکزی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کی۔

اس اجلاس کی میزبانی مظفرآباد کے تاجر رہنما شوکت نواز نے کی، جبکہ پونچھ سے عمر نذیر کشمیری اور میرپور سے خواجہ مہرہان ایڈووکیٹ سمیت مختلف علاقوں کے رہنما نمایاں طور پر سامنے آئے۔

چارٹر آف ڈیمانڈ: تحریک کے مطالبات کیا تھے؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے قیام کے بعد ایک چارٹر آف ڈیمانڈ مرتب کیا۔

اس میں آٹے اور دیگر اشیائے خورونوش پر سبسڈی، محکمہ خوراک میں مبینہ کرپشن کے خاتمے، خطے کو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دینے، منگلا ڈیم کی لاگت پر بجلی کی فراہمی، حکمران اشرافیہ اور بیوروکریسی کی مراعات کے خاتمے اور ہائیڈل منصوبوں سے خطے کو آمدن میں حصہ دینے جیسے مطالبات شامل تھے۔

اس کے علاوہ خطے کو ٹیکس اور ڈیوٹی فری قرار دینے، نیلم جہلم منصوبے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد، منگلا ڈیم سے متعلق سابقہ وعدوں کی تکمیل، رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر، طلبہ یونین کی بحالی، بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز کی فراہمی، قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی بحالی، لائن آف کنٹرول کے قریب موبائل اور انٹرنیٹ سہولیات میں بہتری اور غیر ملکی سیاحوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل تھے۔

یوں تحریک کے مطالبات صرف روزمرہ مہنگائی تک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی، سیاسی اور انتظامی حقوق تک پھیل گئے۔

28 ستمبر: بجلی کے بلوں کا سمندر

28 ستمبر 2023 کو بجلی کے بلوں کے بائیکاٹ اور انہیں نذر آتش کرنے کی مہم نے تحریک کو ایک غیر معمولی شکل دے دی۔

محکمہ برقیات کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 22 فیصد بجلی کے بل جمع ہوئے جبکہ 78 فیصد صارفین نے بل جمع نہیں کروائے۔

مظفرآباد، نیلم، ہٹیاں اور تتہ پانی میں بلوں سے کشتیاں بنا کر انہیں دریاؤں میں بہایا گیا۔ پونچھ، کوٹلی، میرپور، باغ، سدھنوتی اور دیگر علاقوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں بل نذر آتش کیے گئے۔

کہیں بلوں کے ہار بنا کر گلے میں ڈالے گئے تو کہیں انہیں تابوت میں رکھ کر جلایا گیا۔ بعض مقامات پر لوگ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے بل نذر آتش کر رہے تھے۔

یہ احتجاج اپنے اندر ایک علامتی پیغام بھی رکھتا تھا: بجلی کے بل اب صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں رہے تھے، بلکہ عوامی غصے اور مزاحمت کی علامت بن چکے تھے۔

ریاستی ردعمل اور خواتین کا میدان میں اترنا

ریاستی اداروں کی جانب سے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرنے اور مظاہرین کے خلاف مقدمات و گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

مگر دھرنے دوبارہ آباد ہوتے رہے۔

اسی دوران پہلی مرتبہ خواتین بھی بڑی تعداد میں احتجاجی عمل کا حصہ بنیں۔

10 اکتوبر 2023 کو مختلف اضلاع، تحصیلوں، بازاروں اور دیہات میں خواتین نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ راولاکوٹ میں خواتین کی ایک بڑی ریلی منعقد ہوئی۔

17 اکتوبر کو شدید بارش کے باوجود طلبہ بھی سڑکوں پر نکل آئے۔

یوں تحریک نے معاشرے کے ان طبقات کو بھی متحرک کیا جو عمومی طور پر سیاسی احتجاج میں نسبتاً کم نظر آتے تھے۔

وعدے، مذاکرات اور بار بار مؤخر ہوتے احتجاج

حکومت نے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔

وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی قائم ہوئی۔ مختلف اوقات میں حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے اور یقین دہانیاں سامنے آتی رہیں۔

دسمبر 2023 میں بھی حکومت نے 4 جنوری تک مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور احتجاج کو مؤخر کیا گیا۔

مگر مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے سے عوامی بے چینی برقرار رہی۔

یہاں سے تحریک کے اندر ایک اور مسئلہ بھی نمایاں ہونے لگا: فیصلہ سازی کا دائرہ وسیع کور کمیٹی سے سکڑ کر چند افراد تک محدود ہونے کی شکایات سامنے آنے لگیں۔

فروری 2024: تحریک کے اندر اختلافات

5 فروری 2024 کو احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی گئی۔

لیکن مذاکرات اور حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد احتجاج واپس لینے کا اعلان سامنے آیا۔ عوامی ردعمل کے بعد اسے ’’یوم عزم‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔

راولاکوٹ سمیت مختلف مقامات پر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے فیصلوں پر تنقید ہوئی۔

13 فروری کو ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں ٹارگٹڈ کیش سبسڈی کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا اور گلگت بلتستان کے نرخوں پر آٹا فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔

یہ مرحلہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریک کے اندر قیادت اور عوام کے درمیان فیصلوں کے حوالے سے ایک فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو چکا تھا۔

11 مئی کا لانگ مارچ

15 اپریل 2024 کو اعلان ہوا کہ 11 مئی کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔

اس اعلان نے حکومت اور تحریک کے درمیان کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا۔

حکومت نے اضافی فورس طلب کی۔ پنجاب کانسٹیبلری کے 600 اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری دی گئی جبکہ ایف سی سمیت دیگر نفری بھی تعینات کی گئی۔

ایکشن کمیٹی نے مطالبات کی منظوری تک لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

یکم مئی کو ڈڈیال میں منگلا ڈیم کے کنارے ایکشن کمیٹی کے ارکان نے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کا حلف لیا۔

گرفتاریوں سے تصادم تک

لانگ مارچ سے دو روز قبل 9 مئی کو میرپور ڈویژن سے متعدد رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

گرفتاریوں کے خلاف ڈڈیال، نکیال، تتہ پانی، سرساوہ اور دیگر علاقوں میں احتجاج ہوئے۔

ڈڈیال میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر دی اور دو روز کے لیے ہنگامی انتظامات کیے گئے۔

ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ مؤخر کرتے ہوئے 10 مئی سے ریاست گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا۔

مگر عوامی دباؤ کے نتیجے میں 11 مئی کا لانگ مارچ برقرار رہا۔

سڑکوں پر عوام کا سمندر

11 مئی کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع ہوا۔

میرپور، کوٹلی اور دیگر علاقوں سے قافلے آگے بڑھے۔ مختلف مقامات پر انہیں روکنے کی کوشش کی گئی اور کئی جگہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

اسلام گڑھ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا جبکہ متعدد مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔

اس کے باوجود قافلے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔

12 مئی کو راولاکوٹ میں مذاکرات ہوئے مگر کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی۔ قافلے دھیرکوٹ کی جانب روانہ ہوئے اور وہاں بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔

مگر مطالبات کی منظوری کے واضح نوٹیفکیشن کے بغیر قافلے واپس جانے پر تیار نہیں تھے۔

23 ارب روپے کا پیکیج اور مطالبات کی منظوری

جب لانگ مارچ مظفرآباد کی جانب بڑھ رہا تھا تو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 23 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا۔

اس کے ساتھ ہی مطالبات سے متعلق نوٹیفکیشن جاری ہونا شروع ہوئے۔

بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی کی گئی۔ گھریلو صارفین کے لیے مختلف سلیبز میں بجلی کے نرخ کم کیے گئے جبکہ کمرشل صارفین کے لیے بھی نئے نرخ مقرر ہوئے۔

آٹے کی قیمت میں بھی کمی کی گئی اور 40 کلو گرام آٹے کی قیمت 2 ہزار روپے مقرر کی گئی۔

حکمران اشرافیہ کی مراعات کے جائزے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا، اگرچہ اس کمیشن کے عملی قیام کے حوالے سے بعد میں تاخیر سامنے آئی۔

یوں ایک سال سے جاری تحریک اپنے بنیادی مطالبات میں سے اہم ترین مطالبات کی منظوری تک پہنچ گئی۔

مظفرآباد: استقبال، مزاحمت اور خون

لانگ مارچ کے دوران راستے میں عوامی استقبال کے مناظر بھی سامنے آئے۔

بچے، خواتین اور مرد گھروں کی چھتوں، پہاڑیوں اور بازاروں میں کھڑے ہو کر قافلوں کا استقبال کرتے رہے۔

کہیں پانی اور شربت تقسیم کیا گیا، کہیں کھانے کا انتظام ہوا اور کہیں گھروں اور ہوٹلوں کے دروازے مارچ کے شرکاء کے لیے کھول دیے گئے۔

لیکن مظفرآباد کے قریب صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوئی۔

رینجرز کے قافلے مظفرآباد کی جانب بڑھے تو برار کوٹ کے مقام پر شہریوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران فائرنگ کے واقعات میں نوجوانوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

انٹرنیٹ کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا۔ معلومات کے محدود ہونے کی وجہ سے مظفرآباد کے بعض شہریوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو شہر میں داخلے کی اجازت مل چکی ہے۔ چنانچہ بعض نوجوان رینجرز کے قافلوں کو روکنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ واقعہ تحریک کی پوری تاریخ کا سب سے المناک باب بن گیا۔

کامیابی کے بعد نئے سوالات

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے یہ ثابت کیا کہ مقامی سطح پر معاشی اور شہری مسائل بھی بڑے پیمانے پر عوامی مزاحمت کو جنم دے سکتے ہیں۔

اس تحریک میں تاجروں، طلبہ، خواتین، سیاسی کارکنوں، مزدوروں اور عام شہریوں نے مختلف ادوار میں حصہ لیا۔

لیکن تحریک کی کامیابی کے ساتھ نئے سوالات بھی پیدا ہوئے۔

کیا یہ تحریک صرف بجلی اور آٹے کے نرخوں تک محدود رہے گی؟

کیا چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل سیاسی، معاشی اور انتظامی مطالبات بھی اسی قوت سے آگے بڑھیں گے؟

اور سب سے اہم سوال: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مستقبل میں کس سیاسی سمت میں جائے گی؟

قوم پرست اور ترقی پسند قیادت کا سوال

تحریک کے ابتدائی مراحل میں قوم پرست اور ترقی پسند سیاسی کارکنوں کا کردار نمایاں رہا۔ مقامی ایکشن کمیٹیوں کی تشکیل، احتجاجی سرگرمیوں اور بعد ازاں مرکزی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے قیام تک مختلف قوم پرست و ترقی پسند حلقے متحرک رہے۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ کمیٹی کے اندر قیادت، فیصلہ سازی اور تحریک کی سمت پر اختلافات سامنے آتے گئے۔

تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ تحریک کے ابتدائی وسیع مشاورتی ڈھانچے کے بجائے فیصلے چند افراد تک محدود ہوتے گئے۔

دوسری طرف یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا کہ مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے گروہوں کو ایک مشترکہ عوامی پلیٹ فارم پر برقرار رکھنے کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رہنا ضروری ہے۔

یہی تضاد اب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مستقبل کا ایک اہم سوال بن چکا ہے۔

ریاست کے خدشات اور نوجوان نسل

اس تحریک کا ایک اہم پہلو نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت بھی ہے۔

18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں نے احتجاجی سرگرمیوں، دھرنوں اور لانگ مارچ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ریاستی اداروں کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی اہم ہے کہ معاشی مطالبات سے شروع ہونے والی تحریک نے وقت کے ساتھ سیاسی شعور اور ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کی بحث کو بھی جنم دیا۔

یہاں سے تحریک کے سامنے دو راستے بنتے ہیں۔

ایک راستہ یہ ہے کہ اسے بنیادی شہری اور معاشی حقوق کی جدوجہد تک محدود رکھا جائے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ یہ تحریک وسیع تر سیاسی اور قومی سوالات کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنائے۔

ان دونوں راستوں کے درمیان توازن قائم رکھنا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

تین سال بعد جیک کہاں کھڑی ہے؟

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا سفر کسی سیدھی لکیر کی طرح نہیں رہا۔

کبھی احتجاج، کبھی مذاکرات۔

کبھی معاہدے، کبھی وعدہ خلافی کے الزامات۔

کبھی قیادت اور عوام ایک صف میں دکھائی دیے اور کبھی قیادت کو عوامی دباؤ کے سامنے اپنے فیصلے تبدیل کرنا پڑے۔

لیکن اس پورے سفر کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافے کے خلاف راولاکوٹ کے ایک دھرنے سے شروع ہونے والی جدوجہد نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مقامی ایکشن کمیٹیوں سے مرکزی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی تک کا سفر، بجلی کے بلوں کے بائیکاٹ سے خواتین اور طلبہ کے احتجاج تک، اور پھر بھمبر سے مظفرآباد تک لانگ مارچ — یہ سب ایک ایسی عوامی تحریک کی مختلف منزلیں ہیں جس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاست کو متاثر کیا۔

تین سال بعد اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جیک نے کیا حاصل کیا؟

اصل سوال یہ ہے کہ اس تحریک نے عوام میں جو سیاسی اور اجتماعی شعور پیدا کیا، وہ مستقبل میں کس شکل میں سامنے آئے گا۔

کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک مستقل عوامی حقوق کے پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھے گی؟

کیا اس کے اندر مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے گروہوں کے درمیان اتفاق قائم رہے گا؟

اور کیا مستقبل کی کسی تحریک میں فیصلہ سازی پھر وسیع عوامی مشاورت کی طرف واپس جائے گی؟

ان سوالات کے جواب آنے والے برسوں میں سامنے آئیں گے۔

فی الحال تین سال کا یہ سفر اس بات کی گواہی ضرور دیتا ہے کہ راولاکوٹ کے ایک آٹے کے دھرنے سے شروع ہونے والی آواز جب مختلف شہروں، بازاروں، دیہات، تعلیمی اداروں اور گھروں تک پہنچی تو وہ ایک ایسی اجتماعی طاقت میں بدل گئی جس نے حکومت کو نہ صرف مذاکرات کی میز پر آنے بلکہ کئی بنیادی مطالبات تسلیم کرنے پر بھی مجبور کیا۔

اور شاید اسی لیے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تین سالہ تاریخ صرف ایک تنظیم کے قیام کی داستان نہیں، بلکہ ایک خطے میں عوامی مزاحمت کے بدلتے ہوئے انداز کی کہانی بھی ہے۔

٭٭٭

Share this content: