حوثیوں کا ریاض میں حساس تنصیبات اور آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں بعض ’حساس‘ تنصیبات کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کے ترجمان امین حیان نے ایک بیان میں کہا کہ ان تازہ حملوں میں ان تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

سعودی عرب نے تاحال اس بیان پر کوئی ردِعمل نہیں دیا اور نہ ہی ان حملوں کی تصدیق یا تردید کی ہے۔

اس سے قبل سعودی حکام نے کہا تھا کہ اسی روز ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا، تاہم انھوں نے دیگر حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

اس سے پہلے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب ایندھن کے ٹینکوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب اس واقعے کے باعث سنیچر کو پروازوں کی آمدورفت بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی تھی۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے ’المسیرہ‘ ٹیلی ویژن چینل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں کی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب کے ان اقدامات کے جواب میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جنھیں وہ ’مجرمانہ‘ قرار دیتے ہیں۔

ایک بیان میں وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کو سعودی عرب کی کسی بھی ایسی کارروائی کا جواب دینے کا جائز حق حاصل ہے جو ان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہو، اور وہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

حوثیوں کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو حوثیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں سعودی عرب نے 26 حملے کیے ہیں۔

Share this content: