جنیوا میں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس میں انسانی حقوق، انصاف اور بلوچ سیاسی مستقبل پر گفتگو

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر جنیوا پریس کلب میں بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں بلوچستان کی انسانی حقوق کی صورتِ حال، جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، قدرتی وسائل، حقِ خود ارادیت اور خطے کے سیاسی مستقبل پر گفتگو کی گئی۔

کانفرنس کا عنوان تھا ’مقبوضہ بلوچستان دوراہے پر: انسانی حقوق، انصاف اور جدوجہدِ آزادی، چیئرمین زبیر بلوچ کی میراث کو خراجِ عقیدت‘۔

کانفرنس میں بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کے علاوہ سندھی، پشتون، افغان، کشمیری اور گلگت بلتستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یورپ سے انسانی حقوق کے ماہرین، ایک برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اور صحافیوں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس بی این ایم کی تین روزہ جنیوا مہم کا حصہ تھی، جس کے دوران تنظیم نے بلوچستان کی صورتِ حال کو عالمی اداروں اور بین الاقوامی نمائندوں کے سامنے اجاگر کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم ) کے رہنما منظور پشتین، برطانوی لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ اور سابق شیڈو چانسلر جان میک ڈونل، سندھی قوم دوست رہنما اور ورلڈ سندھی کانگریس کے سرکردہ ڈاکٹر لاکھو لوھانہ، بی این ایم کے انسانی حقوق کے ادارے پانک کے میڈیا رابطہ کار جمال بلوچ، جیئے سندھ فریڈم موومنٹ کے چیئرمین سہیل احمد ابڑو، ورکر پارٹی گلگت بلتستان کے نمائندے شیرباز خان، افغان مصنف، ادیب اور ایران میں افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر غفور لیوال، اطالوی فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی یو) کے صدر اور روم لنک کیمپس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تنظیموں و انسانی حقوق کے پروفیسر انتونیو سٹانگو، اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہد قاضی شامل تھے۔کانفرنس کی میزبانی بی این ایم کے ارکان مہرہ بلوچ اور سلیم بلوچ نے کی۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ: بلوچستان کی ہر رپورٹ اور اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسان ہے

کانفرنس کے مرکزی خطاب میں بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ یہ اجتماع ایک اور سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ان انسانی زندگیوں کی آواز ہے جو بلوچستان کی صورتِ حال کی عکاس ہے۔

انھوں نے کہا بلوچستان کی ہر رپورٹ، ہر تصویر اور ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسان ہے۔

ان کے مطابق ایک ماں اپنے جبری لاپتہ بیٹے کی واپسی کا انتظار کر رہی ہے، ایک بچہ باپ کے بغیر بڑا ہو رہا ہے اور خاندان جیلوں کے دروازوں پر یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ان کا پیارا کہاں ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے بی این ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالرشید عرف ڈاکٹر نوکاپ بلوچ کو بھی یاد کیا، جنھیں 10 ستمبر کو پاکستانی فوج کے ایجنٹس نے قتل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد مریض بن کر آئے اور اس شخص کو قتل کر دیا جس کا کام لوگوں کا علاج کرنا تھا۔

انھوں نے شہید چیئرمین زبیر بلوچ کی سیاسی جدوجہد اور فکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھیں قومی آزادی، قبضے کے انکار اور نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی بات کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔

ان کے بقول دشمن نے زبیر بلوچ کو ہم سے چھین لیا لیکن ان کا سیاسی وژن نہیں چھین سکا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور گل زادی بلوچ کی عمر قید کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی این ایم کا سیاسی مؤقف ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان ہے اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو قومی آزادی کی جدوجہد سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے خطاب میں بلوچستان کے انسانی بحران کو محض اعداد و شمار کے بجائے ان خاندانوں اور افراد کے حوالے سے پیش کیا گیا جو ان حالات سے براہِ راست متاثر ہیں۔

منظور پشتین: پرامن آواز اٹھانے والوں کو قید اور عمر قید دی جا رہی ہے

پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

انھوں نے ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبگر بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور دیگر کارکنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا جرم صرف پرامن آواز اٹھانا ہے۔

ان کے بقول ریاست نے انہیں قید کیا اور عمر قید دی۔

منظور پشتین نے کہا کہ بلوچ نوجوان روزانہ جبری لاپتہ کیے جا رہے ہیں، جبکہ گھروں میں خواتین اور بچے فضائی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق فطری وسائل کے حوالے سے سوال اٹھانے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر جیل بھیجا جاتا ہے یا انھیں جبری لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے پشتون علاقوں کے حوالے سے دو لاکھ سے زائد متاثرین، ہزاروں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں فوجی ڈرون حملوں میں ایک سال یا اس سے کم عمر کے 72 بچے مارے گئے۔

یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر بڑا سیاسی قدم اٹھانا ممکن نہیں تو کم از کم ایسی ریاست کو مزید فنڈز اور ہتھیار فراہم نہ کیے جائیں۔

انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم کو ٹرمپ کا چاپلوس قرار دیتے ہوئے کہا ایک آدمی کی خوشامدی کو لاکھوں ہلاکتوں سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

جان میک ڈونل: برطانیہ بلوچ عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرے

برطانوی لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ اور سابق شیڈو چانسلر جان میک ڈونل نے کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ وہ 1997 سے ہیز اینڈ ہارلنگٹن کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی نوآبادیاتی تاریخ اس پر خصوصی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ بلوچ عوام کے امن، انصاف اور حقِ خود ارادیت کے مطالبات کو تسلیم کرے۔

جان میک ڈونل نے کہا کہ وہ پاکستانی جبر سے متاثرہ بلوچوں کو برطانیہ میں سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

انھوں نے نئی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پناہ کے متلاشی افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول ، بعض لوگ اس لیے پناہ مانگتے ہیں کہ ان کی جانیں خطرے میں ہیں۔

انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ لندن اور اسلام آباد کے تعلقات کے باعث برطانوی پالیسی میں تبدیلی آسان نہیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ نئی قیادت کے ساتھ فوری مسائل اور شہری آزادیوں کے حوالے سے طویل بات چیت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر لاکھو لوھانہ: بلوچستان دوراہے پر نہیں، آزادی کی راہ پر ہے

سندھی قوم دوست رہنما اور ورلڈ سندھی کانگریس سے وابستہ رہ چکے ڈاکٹر لاکھو لوھانہ نے کانفرنس کے عنوان کے ایک حصے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کسی دوراہے پر نہیں بلکہ آزادی کی راہ پر ہے۔

انھوں نے کہا کہ 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر غلامی کی رات پڑی۔’وہ رات ختم نہیں ہوئی، گہری ہوتی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر لاکھو لوھانہ نے بلوچستان کے فطری وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سونا، تانبا، کوئلہ، گیس اور تیل موجود ہونے کے باوجود خطے میں غربت اور غذائی قلت برقرار ہے جبکہ مادرانہ اور بچگانہ اموات کی شرح بھی بلند ہے۔

انھوں نے سوئی گیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گیس کا بڑا حصہ نکال لیا گیا، لیکن خواتین آج بھی پانی کے حصول کے لیے میلوں سفر کرتی ہیں۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان سے اور کتنے جسم خون بہائیں گے، تب دنیا یہ تسلیم کرے گی کہ مظالم ہو رہے ہیں اور انھیں روکنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے سندھ اور بلوچستان کو ایک مشترکہ سیاسی سفر میں ساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا بلوچستان کسی دوراہے پر نہیں، آزادی کی راہ پر ہے۔

پانک: چھ ماہ میں 485 جبری گمشدگیاں اور 181 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں

کانفرنس میں بلوچستان کے انسانی حقوق کے ادارے پانک کے میڈیا رابطہ کار جمال بلوچ نے تنظیم کی دستاویزی رپورٹ کے اعداد و شمار پیش کیے۔

جمال بلوچ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران پانک کو 485 جبری گمشدگیوں اور 181 ماورائے قانون قتل کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق خواتین اور بچوں کی 32 گمشدگیاں بھی ریکارڈ کی گئیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ یہ صرف وہ واقعات ہیں جو پانک تک پہنچے، جبکہ بہت سے خاندان دھمکیوں کے باعث واقعات رپورٹ نہیں کرتے۔

ان کے مطابق چھ ماہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ماہانہ اوسطاً 81 جبری گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں، جبکہ گمشدہ افراد میں سے اوسطاً 30 افراد قتل کیے گئے۔ پانک کے پیش کردہ ماہانہ اوسط اور رپورٹ شدہ اعداد و شمار کو 25 ستمبر کی بیرونی رپورٹنگ نے بھی نمایاں کیا۔

جمال بلوچ نے بلوچستان میں ڈرون حملوں اور فضائی بمباری کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ ماہ ایسے حملوں میں چھ افراد مارے گئے، جن میں تین بچے شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک حملے میں 285 کلوگرام وزنی بم استعمال کیا گیا۔

سیاسی کارکنوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ انہیں پہلے جبری لاپتہ کیا جاتا ہے، بعد میں گرفتار ظاہر کیا جاتا ہے اور میڈیا پر تیار شدہ بیانات پڑھوائے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہمیں جینے کا حق ہے۔ ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے اسکولوں میں ہونے کا حق ہے۔

سہیل احمد ابڑو: بلوچستان، سندھ اور دیگر خطوں میں ریفرنڈم کرایا جائے

جیئے سندھ فریڈم موومنٹ کے چیئرمین سہیل احمد ابڑو نے کہا کہ بلوچستان صدیوں تک ایک آزاد ریاست رہا اور 27 مارچ 1948 کو فوجی قبضے میں آیا۔

انھوں نے کہا ریاست عوام نہیں، کانیں اور زمین دیکھتی ہے۔

سہیل احمد ابڑو نے کہا کہ 30 ہزار سے زائد بلوچ جبری طور پر لاپتہ ہیں جبکہ برسوں کے دوران آٹھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ انھوں نے سوراب میں فضائی بمباری کا بھی ذکر کیا۔

انھوں نے سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، گلگتی بلتی اور سرائیکی عوام کو ایک ہی قبضے کی مظلوم اقوام قرار دیتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی۔

انھوں نے اقوام متحدہ سے بلوچستان، سندھ، پختونخوا، جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور سرائیکی وسیب میں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے جی ایم سید کا قول دہرایا آزادی ہمارا حق ہے، آزادی ممکن ہے، اور ایک دن ہم آزادی حاصل کریں گے۔

شیرباز خان: گلگت بلتستان کی جانب سے یکجہتی کا اظہار

ورکر پارٹی گلگت بلتستان کے نمائندے شیرباز خان نے کانفرنس سے خطاب کیا اور خطے کی دیگر مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

انھوں نے گلگت بلتستان کے عوام اور خطے میں حقوق اور سیاسی مطالبات کے لیے جدوجہد کرنے والی اقوام کے حوالے سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

ڈاکٹر غفور لیوال: دنیا ابھی ان مسائل کو درست طور پر نہیں سن رہی

افغان مصنف، ادیب اور ایران میں افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر غفور لیوال نے کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان اور پشتون علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو عالمی سطح پر ابھی درست طور پر نہیں سمجھا گیا۔

ان کے بقول خاندانوں نے پیارے کھوئے ہیں۔ خواتین اور بچے گھروں سے اٹھائے جاتے ہیں۔ اذیت زدہ لاشیں بعد میں ملتی ہیں۔ ہزاروں جبری لاپتہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ صرف انسانی حقوق کی پامالیوں کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ دنیا ان لوگوں کے مطالبات اور ان کی قربانیوں کی وجوہات سے پوری طرح واقف نہیں۔

ڈاکٹر غفور لیوال نے اس سلسلے میں دو محاذوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ایک محاذ گھر کے اندر لوگوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا ہے جبکہ دوسرا بین الاقوامی برادری تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دباؤ میں رہنے والے لوگ خود یہ کام نہیں کر سکتے، اس لیے جلاوطن دانشوروں، صحافیوں اور برادریوں کو ان کی آواز بننا چاہیے۔

انھوں نے کہا یہ صرف حقائق کی جدوجہد نہیں۔ یہ سامعین کی جدوجہد ہے، سچ کی جدوجہد ہے، تعلیم کی جدوجہد ہے، اور کسی کی آواز سنائے جانے کی جدوجہد ہے۔

انتونیو سٹانگو: بین الاقوامی اداروں تک بہت سی قوموں کی رسائی محدود ہے

اطالوی فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی یو) کے صدر اور روم لنک کیمپس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے پروفیسر انتونیو سٹانگو نے انسانی حقوق کے عالمی نظام اور اس کی عملی صورتِ حال پر گفتگو کی۔

انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا نظریہ اور انسانی حقوق کی پامالی کی حقیقت ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق جب اجتماعی حقوق سے محروم قوموں کے نمائندے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو بعض سرکاری نمائندے انھیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں فورم پر نہیں بلکہ قید میں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کانفرنس پیلے دے ناسیون کے بجائے جنیوا پریس کلب میں اس لیے منعقد ہو رہی ہے کہ بعض حکومتیں اقوام متحدہ کے اندر ایسے اجلاسوں کی مخالفت کرتی ہیں۔

انتونیو سٹانگو نے کانفرنس کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں اور اعتماد کے بغیر مفاہمت نہیں ہو سکتی۔

انھوں نے ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو سیاسی عدالت کے بجائے سنگین بین الاقوامی جرائم کی عدالت قرار دیتے ہوئے کہا بین الاقوامی انصاف کو کام کرنا چاہیے۔

شاہد قاضی: بلوچستان کے مسئلے کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہد قاضی، جو پروگرام ’دی انمیوٹڈ وائس‘ کے میزبان رہے ہیں اور اس سے قبل این بی سی نیوز اور آئی ٹی وی سے وابستہ رہے، نے بلوچستان کے مسئلے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر بات کی۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو طویل عرصے سے صرف سیکیورٹی کے زاویے سے پیش کیا جاتا رہا ہے، جبکہ اس کے انسانی اور سیاسی پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ طلبہ کا احتجاج، لاپتہ بیٹے کی تلاش اور انصاف کا مطالبہ قومی سلامتی کا خطرہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سوال ہے۔

ان کے بقول موت غم دیتی ہے۔ جبری گمشدگی بے یقینی دیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے فطری وسائل نکلتے ہیں مگر لوگوں کی زندگی نہیں بدلتی۔ اگر لوگوں کے وقار کو نظرانداز کر دیا جائے تو کوئی بندرگاہ خوشحالی کی علامت نہیں بن سکتی۔

انھوں نے عالمی برادری سے کہا کہ آنکھیں بند کرکے کسی دعوے کو قبول نہ کیا جائے، بلکہ سنا جائے، تحقیق کی جائے اور تصدیق کی جائے۔

ان کے بقول سچ شفافیت سے نہیں ڈرتا۔

انھوں نے کہا کہ اگر یورپ میں کسی شخص کی گمشدگی اہم مسئلہ ہے تو بلوچستان میں بھی گمشدگی کو اہم سمجھا جانا چاہیے، اور اگر جنیوا میں اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے تو شال میں بھی یہ حق ہونا چاہیے۔

انھوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس جملے پر کیا خوف تمہیں قیدی بنائے گا، امید آزاد کرے گی۔

کانفرنس کا اختتام: انسانی حقوق، انصاف اور سیاسی مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنے پر زور

کانفرنس کے مختلف خطابات میں بلوچستان کی صورتِ حال کو انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، قدرتی وسائل، انصاف، حقِ خود ارادیت اور سیاسی مستقبل کے باہم جڑے ہوئے سوالات کے طور پر پیش کیا گیا۔

مقررین نے اپنے اپنے خطابات میں بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ، پشتون علاقوں، کشمیر، گلگت بلتستان اور سرائیکی خطے کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور ان کے درمیان مشترکہ سیاسی و انسانی حقوق کے پہلوؤں کی نشاندہی کی۔

کانفرنس کے اختتام پر مقررین کا مشترکہ نکتہ یہ تھا کہ بلوچستان میں قید، جبری گمشدگی، فطری وسائل اور سیاسی مستقبل کے سوالات کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

کانفرنس کو شہید بی این ایم چیئرمین زبیر بلوچ کی سیاسی جدوجہد اور فکر سے منسوب کیا گیا، جبکہ اس کے ذریعے بلوچستان کے انسانی حقوق اور سیاسی مسئلے کو جنیوا میں موجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں، سیاسی نمائندوں، صحافیوں اور دیگر شرکا کے سامنے پیش کیا گیا۔

Share this content: