اسلام آباد/ کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رحیم کی اسلام آباد ایئرپورٹ پر مبینہ گرفتاری کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رحیم چند روز قبل بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچے اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر انہیں پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے لیا۔ ان کی حراست کی وجوہات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ڈاکٹر رحیم ایک معروف اور سینئر طبیب ہیں۔ انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی جبکہ کئی برس تک سی ایم ایچ راولاکوٹ میں بھی طبی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں وہ لندن منتقل ہو گئے، جہاں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ مقیم اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رحیم نے لندن میں جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک احتجاج میں شرکت کی تھی، جس کے تناظر میں ان کے خلاف کارروائی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ڈاکٹر رحیم کی مبینہ گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر انہیں محض سیاسی یا سماجی سرگرمیوں اور پرامن احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے تو یہ بنیادی انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور پرامن اجتماع کے حق کے حوالے سے تشویشناک معاملہ ہے۔
مذمت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کے بجائے قانون اور آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے معاملات حل کیے جانے چاہئیں اور کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی کی صورت میں اسے قانونی وجوہات سے آگاہ کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر رحیم کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا قانونی کارروائی موجود ہے تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کرکے قانون کے مطابق معاملہ آگے بڑھایا جائے۔
مذمت کرنے والوں کے مطابق اختلافِ رائے کو جرم تصور نہیں کیا جانا چاہیے جبکہ پرامن احتجاج اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جمہوری معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر رحیم سمیت سیاسی یا سماجی سرگرمیوں کے باعث حراست میں لیے جانے والے افراد کے معاملات میں قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کو ملحوظ رکھا جائے۔
Share this content:


